.

یمن : بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے مجرم کو سرعام پھانسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایک چار سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے بائیس سالہ مجرم کو سرعام گولیاں مار کر پھندے پر لٹکا دیا گیا ہے۔

مجرم کی شناخت حسین الساکت کے نام سے کی گئی ہے۔اس نے کم سن لڑکی کو اغوا کے بعد اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا تھا اور پھر اس کو بے دردی سے قتل کردیا تھا۔

مقتولہ کے چچا علی عایض نے بتایا ہے کہ بچی کے گھر سے لاپتا ہونے کے بعد حسین الساکت بھی اس کو ڈھونڈنے میں شریک رہا تھا لیکن بعد میں پولیس کی تفتیش کے دوران اس نے اعتراف جرم کرلیا تھا۔انھوں نے کہا کہ اس کو اس طرح سرعام سزا دینے سے دوسرے مجرموں کو بھی کان ہوجائیں گے۔

مجرم ساکت کو حوثی ملیشیا کے تحت عدالت کے جج نے سزائے موت کا حکم سنایا تھا۔اس کو آج سوموار کو سزا پر عمل درآمد کے لیے صنعاء کے مشہور میدان التحریر میں پولیس کی معیت میں لایا گیا تھا۔

اس کو پہلے ایک پولیس اہلکار نے پشت کی جانب سے دل پر پانچ گولیاں ماری تھیں جس سے وہ ہلاک ہوگیا اور پھر اس کی لاش کو کرین کے ذریعے پھندے پر لٹکا دیا گیا۔اس وقت میدان التحریر میں یمنیوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

حوثیوں کے زیر انتظام صنعاء میں جنسی زیادتی اور قتل کے کسی مجرم کو اس طرح سرعام سزا دینے کا گذشتہ دوہفتوں میں یہ دوسرا واقعہ ہے۔اس سے پہلے صنعا میں 31 جولائی کو ایک تین سالہ بچی کو زیادتی کے بعد بے دردی سے قتل کرنے والے مجرم کو سیکڑوں افراد کے سامنے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا گیا تھا۔