.

آپ دوسروں کی مسکراہٹ کو کس طرح پڑھ سکتے ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مسکراہٹ انسانی زندگی میں اظہار کے اُن طریقوں میں سے ایک ہے جن کا سب سے زیادہ استعمال ہوتا ہے۔ تاہم کبھی کبھار اس کا خفیہ کوڈ کھولنا مشکل ہو جاتا ہے۔

برطانوی اخبار ڈیلی میل کے مطابق ایک تحقیقی مطالعے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مسکراہٹ بنیادی طور پر تین طرح کی ہوتی ہے اور ہر مسکراہٹ کا اپنا عضلاتی امتزاج ہوتا ہے۔

یونی ورسٹی آف وِسکونسن میڈیسن میں نفسیات کی پروفیسر پاؤلا نیڈنٹال کہتی ہیں کہ "مسکراہٹوں کے بیچ امتیاز کرنے کے لیے سائنس دان حقیقی اور غیر حقیقی مسکراہٹ پر توجہ مرکوز کرتے ہیں"۔

اس سلسلے میں لوگوں میں یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ صرف مسرت کی حالت میں سامنے آنے والی مسکراہٹ ہی "حقیقی" ہوتی ہے اور یہ خیال چہرے کے اتنے اہم اظہار کو سمجھنے کے لیے ہماری سوچ کو محدود کر دیتا ہے۔

تحقیقی مطالعے کے دران شرکاء کے سامنے کمپیوٹر کے ذریعے تیار کیے جانے والے چہرے کے ہزاروں تاثرات دکھائے گئے اور ان سے یہ بتانے کا مطالبہ کیا گیا کہ ہر مسکراہٹ کس نوعیت کے اظہار ے یا کس مخصوص سماجی پیغام کی عکاسی کر رہی ہے اور آیا کہ مسکراہٹ حقیقی ہے یا مصنوعی۔

یہ بات سب جانتے ہیں کہ مسکراہٹ کی ذمے دار "رخسار کی بڑی ہڈی" ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں گالوں کے نیچے موجود عضلات اپنا کردار ادا کرتے ہیں جو انسانی مُنہ کے دونوں کونوں کو کھینچتے ہیں۔

سائنس دان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ مسکراہٹ تین قسم کی ہوتی ہے۔ انعامی ، الحاقی اور غلبے والی۔

انعامی مسکراہٹ غالبا سب سے زیادہ بدیہی ہوتی ہے۔ یہ وہ قسم ہے جس کا استعمال مثلا ہم بچے کے ساتھ کرتے ہیں جب وہ ہماری مرضی کے کام کرتا ہے۔ یہ مسکراہٹ رخسار کے عضلات کی متوازن اُٹھان ، بھنوؤں کے اوپر جانے اور ہونٹ کے ذرا سے کھنچاؤ سے سامنے آتی ہے۔

دوسری جانب الحاقی مسکراہٹ انسان کی جانب سے درگزر یا ملاپ اور الحاق کا اظہار کرتی ہے۔ محققین کے مطابق اس مسکراہٹ سے یہ پیغام بھی دیا جا سکتا ہے کہ آپ سامنے والے کے لیے کسی قسم کا خطرہ نہیں ہیں۔ مسکراہٹ کی اس قسم میں بھی منُہ کی متوازن اٹھان استعمال ہوتی ہے تاہم ہونٹ پر دباؤ کے ساتھ اور اس حالت میں دانت بھی نظر نہیں آتے۔

محققین کا کہنا ہے کہ تیسری قسم کی مسکراہٹ یعنی غلبے والی مسکراہٹ کا استعمال معاشرتی حیثیت کے اظہار کے لیے ہوتا ہے۔ واضح طور پر یہ غیر متوازن مسکراہٹ ہوتی ہے جس سے عدم احترام کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس کے دوران بھنوؤیں اور گال دونوں اوپر کو چڑھتے ہیں۔

محققین یہ جاننے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں کہ آیا ان تاثرات کے مذاکارت کے نتائج پر بھی اثرات مرتب ہوتے ہیں یا نہیں۔ علاوہ ازیں تحقیق کے نتائج سے حاصل معلومات کو اُن سرجنوں کی مدد کے لیے بھی کام میں لایا جا رہا ہے جو چہرے کو دوبارہ بنانے کے سلسلے میں آپریشن کرتے ہیں۔