.

ایرانی اشتعال انگیزی سے غیر ضروری کشیدگی پیدا ہونے کا خطرہ ہے: امریکی بحریہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کے ایک سینیر کمانڈر نے کہا ہے کہ ایران کی بڑھتی ہوئی اشتعال انگیزیوں کے باوجود امریکی بحریہ ہمیشہ کی طرح معمول کے مطابق کام کرتی رہے گی۔

ایران کی اشتعال انگیزی کا تازہ واقعہ 13 اگست کو پیش آیا تھا جب ایک ایرانی ڈرون بحرین میں موجود امریکا کے طیارہ بردار بحری بیڑے یو ایس ایس نیمٹز کے اوپر محو پرواز لڑاکا طیاروں کے 300 میٹر سے بھی کم فاصلے کے نزدیک آ گیا تھا۔اس سے چھے روز قبل ایک اور ایرانی ڈرون امریکا کے ایک ایف 18 طیارے کے اس وقت 30 میٹر تک نزدیک آ گیا تھا جب وہ بحری بیڑے پر اترنے کی تیاری کررہا تھا۔

بحرین میں امریکی بحریہ کی مرکزی کمان کے ترجمان کمانڈر بل اربن نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوری کے بعد سے اب تک ایرانی فورسز کا بالکل غیر محفوظ اور غیر پیشہ ورانہ انداز میں چودہ مرتبہ ٹاکرا ہوچکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’امریکی بحریہ خطے میں پیشہ ورانہ انداز ، جہاز رانی کے قواعد وضوابط اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کام کرتی رہے گی اور وہ دوسری اقوام سے بھی اسی قسم کے طرز عمل کی توقع کرتی ہے‘‘۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران کی اس طرح کی اشتعال انگیزیوں کے باوجود خلیج عرب میں بحری جہازوں کے ذریعے ہونے والی بین الاقوامی تجارت پر کچھ فرق نہیں پڑا ہے۔

امریکی ترجمان نے ایران سے کسی ممکنہ محاذ آ رائی کے امکان کو بھی مسترد کردیا ہے جبکہ دوسری جانب ایرانی اس موسم گرما کے آغاز سے امریکا کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کررہے ہیں اور پاسداران انقلاب ایران کے تحت بحری فورسز کے سربراہ نے ’’ دشمن‘‘ کو کسی جارحیت کی صورت میں سبق سکھانے کی دھمکی دی تھی۔

خلیج عرب میں ایران اور امریکا کے بحری جہازوں کے درمیان ٹاکرے ہوتے رہتے ہیں۔امریکی بحریہ نے 2016ء میں ایرانی بحریہ کے ساتھ پیش آئے 35غیر محفوظ یا غیر پیشہ ورانہ واقعات کی اطلاع دی تھی۔2015ء میں ایرانی اور امریکی بحریہ کے درمیان 23 ناخوش گوار واقعات پیش آئے تھے۔
گذشتہ سال ایرانی بحریہ نے دس امریکی سیلروں کو بھی پکڑ لیا تھا اور ان پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے ایران کی آبی حدود کی خلاف ورزی کی تھی۔تاہم انھیں بعد میں چھوڑ دیا گیا تھا۔

ایرانی فورسز خلیج میں امریکا کی موجودگی کو ایک اشتعال انگیزی قرار دیتی ہیں جبکہ امریکی بحریہ نے ایرانی بحریہ کو غیر پیشہ ورانہ کردار کی حامل قرار دیا ہے۔اس پر خاص طور پر خلیج عرب کے دہانے پر واقع آبنائے ہرمز میں اشتعال انگیز کارروائیوں کا الزام عاید کیا ہے۔واضح رہے کہ دنیا کے ایک تہائی تیل کی تجارت اسی اہم گذرگاہ سے ہوتی ہے۔