.

قطر بحران سے مسائل میں اضافہ، ہزاروں تارکین وطن کو تنخواہوں کی عدم ادائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر بحران کے خلیجی ریاست میں مقیم غیر ملکی تارکین وطن پر براہ راست منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں اور بہت سے ورکروں سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ بغیر تنخواہ کے چھٹی پر چلے جائیں جبکہ قطری وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا کہنا ہے کہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک پر اعتماد کی بحالی میں بہت وقت لگے گا۔

بحران کے نتیجے میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں اب آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں کیونکہ سعودی عرب سے ان کی رسد منقطع ہے۔اس پر مستزاد تیل بحران سے بھی قطری معیشت دباؤ کا شکار ہوگئی ہے اور 2022ء میں عالمی فٹ بال کپ کی میزبانی کے لیے کھیل کے میدانوں کی تعمیر کا کام بھی سست روی کا شکار ہوچکا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی اور اقامہ نظام کی سست رفتاری کی وجہ سے غیرملکی تارکین قطر سے واپس اپنے آبائی ممالک کو جارہے ہیں یا وہ روزگار کے لیے دوسرے ممالک کا رُخ کررہے ہیں۔بحران کے نتیجے میں تارکین وطن کی تن خواہوں کی ادائی میں بھی تاخیر کی جارہی ہے۔

قطر میں بھارت اور نیپال سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کام کررہے ہیں اور وہ قطر کی کل ستائیس لاکھ آبادی کا قریباً نوے فی صد ہیں۔ان میں زیادہ تر ماہانہ قریباً آٹھ سو قطری ریال تنخواہ پاتے ہیں۔

ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا سے تعلق رکھنے والے بہت سے تارکین وطن کارکنان سعودی عرب میں پھنس کر رہ گئے ہیں کیونکہ خلیج تنازع کے آغاز کے بعد سعودی عرب کی پابندیوں کے تحت ان کے قطری کفیلوں کو دوحہ واپس آنا پڑا تھا اور یہ تارکین وطن وہیں رہ گئے تھے۔