.

یمن کی سرحد پرحجاج کی خدمت کے لیے 300 رضا کار سرگرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن سے فریضہ حج کی ادائی کے لیے سعودی عرب داخل ہونے والے عازمین حج کی خدمت اور انہیں سہولیات فراہم کرنے کے لیے سرحد پر300 رضاکار سرگرم ہیں۔ یہ پہلا موقع ہے جب سعودی رضاکاروں کی جانب سے یمن کے عازمین حج کو مفت پانی، ٹوائلٹس، طبی سہولیات، عارضی رہائش اور سفری سہولیات فراہم کرنا شروع کی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن سے الودیعہ گذرگاہ کے راستے سعودی عرب داخل ہونے والے یمنی عازمین حج اس بار حیران رہ گئے کہ مملکت میں داخل ہوتے ہی ان کی خدمت پر سعودی رضاکاروں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

سرحد پر سرگرم ان رضا کاروں میں کچھ مشرقی یمن کی حضرموت گونرری سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ الودیعہ گذرگاہ پر موجود ہیں اور وہاں سے سعودی عرب داخل ہونے والے عازمین حج کو پانی، خوراک، ادویات رہائش اور سفر کی سہولیات مہیا کررہے ہیں۔ سخت گرمی کے موسم میں سرحد پر اس طرح کی سہولیات عازمین حج کے لیے نعمت غیر مترقبہ ہیں۔

خیال رہے کہ یمن سے خشکی کے راستے حج کے لیے 24 ہزار 500 عازمین کی آمد متوقع ہے۔ عازمین حج کی آمد کا سلسلہ اگلے 10 روز تک جاری رہے گا۔

سرحد پر امدادی کارکنان کی خدمات پر عازمین حج کی طرف سے غیرمعمولی خوشی اور مسرت کا اظہار کرنے کے ساتھ رضاکاروں کا خصوصی شکریہ ادا کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب کارکنوں نے سوشل میڈیا پر بھی اپنی مہم تیز کررکھی ہے جس میں انہوں نے عازمین حج کو فراہم کردہ سہولیات کی تفصیل کے ساتھ زیادہ سے زیادہ رضار کاروں کو اس خدمت میں شامل ہونے کی دعوت دی گئی ہے۔

یمن اور سعودی عرب کی سرحد پر عازمین حج کی خدمت پر مامور ان رضاکاروں کو دونوں ملکوں کے سرکاری اداروں اور حجاج کے لیے کام کرنئ والی فلاحی تنظیموں کا تعاون بھی حاصل ہے۔

حضرموت گورنری کے ڈائریکٹر اوقاف مراد صبیح نے رضاکاروں کی خدمات کو ’عظیم ترین انسانی خدمت‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی میں یہ ایک غیرمعمولی انسانی خدمت ہے۔ انہوں نے عازمین حج کی خدمت کرنے والے نوجوان رضاکاروں کے قربانی اور ایثار واحسان کے جذبے کو سراہا۔