.

بارسلونا: وین راہ گیروں پر چڑھ دوڑی ، 13 افراد ہلاک ،50 زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسپین کے شہر بارسلونا میں ایک وین نے دسیوں راہ گیروں کو کچل دیا ہے جس کے نتیجے میں تیرہ افراد ہلاک اور پچاس سے زیادہ زخمی ہوگئے ہیں۔

ہسپانوی حکام نے واقعے میں تیرہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔قبل ازیں پولیس نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر صرف ایک ہلاکت کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ وین کے روندنے سے بتیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔جمعرات کے روز یہ واقعہ بارسلونا کے مرکز میں واقع سیاحتی علاقے لاس رمبلاس میں پیش آیا ہے۔

اس واقعے کے بعد دو مسلح افراد ایک ریستوراں میں داخل ہوگئے تھے اور پولیس نے انھیں جا لیا۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دونوں وین حملے میں ملوث تھے۔ان میں سے ایک پولیس کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوگیا ہے اور ایک کو گرفتار کر لیا گیا۔

ایک مقامی اخبار نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ راہ گیروں سے وین سے کچلنے والا ڈرائیور پیدل فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا ہے۔بارسلونا کی پولیس نے اس واقعے کو دہشت گردی کا حملہ قرار دیا ہے۔

سکیورٹی اہلکاروں نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور وہاں پولیس کی متعدد گاڑیاں اور ایمبولینسیں دیکھی جا سکتی تھیں جن کے ذریعے زخمیوں کو اسپتالوں میں منتقل کیا جارہا تھا۔

فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا ہے کہ ڈرائیور نے وین سے جان بوجھ کر راہ گیروں کو روندا ہے یا وہ کسی فنی خرابی کی بنا پر پیدل چلتے لوگوں پر چڑھ دوڑی تھی۔ تاہم واضح رہے کہ یورپ میں دہشت گردی کے متعدد حالیہ حملوں میں موٹر گاڑیوں کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

ہسپانوی وزیراعظم ماریانو رہوئے نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا ہے کہ وہ حکام سے رابطے میں ہیں اور ان کی اولین ترجیح زخمیوں کی دیکھ بھال اور انھیں اسپتال منتقل کرنا ہے۔

لاس رمبلاس بلیوارڈ بارسلونا کا مصروف کاروباری علاقہ ہے۔ یہاں رات گئے تک عموماً سیاحوں کی آمد ورفت کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور مختلف فنون کے ماہر اور کرتب باز اپنے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔