.

برطانوی اخبار نے قطر بحران پر العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کیسے مسخ کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کثیر الاشاعت برطانوی اخبار ’’انڈی پینڈنٹ‘‘ نے العربیہ نیوز چینل سے حال ہی میں نشر ہونے والی ایک رپورٹ پر ایک گم راہ کن مضمون شائع کیا ہے۔اس رپورٹ میں خلیجی ریاستوں کے اپنی فضائی حدود کے تحفظ سے متعلق آپشنز کے بارے میں بتایا گیا تھا۔

برطانوی اخبار نے اس رپورٹ پر سیاق وسباق سے بالکل ہٹ کر تبصرہ کیا ہے اور یہ لکھا ہے کہ حرکی تصاویر کی مدد سے اس رپورٹ میں جو آپشنز دکھا ئے گئے ہیں،ان میں ایک سعودی لڑاکا جیٹ کو قطر کے ایک مسافر طیارے کو نشانہ بناتے ہوئے بھی دیکھا جاسکتا ہے۔

لیکن انڈی پینڈنٹ نے اپنے مضمون میں یہ ہوشیاری کی ہے کہ اس نے العربیہ کی رپورٹ کے مختلف حصوں کوآپس میں گڈ مڈ کردیا ہے اور ان سے پھر اپنے مطلب کا مفہوم اخذ کر لیا ہے۔

اس نے ایک لڑاکا جیٹ کے غیر مجاز فضائی حدود میں داخل ہونے والے قطری طیارے کے منظر کو ویڈیو کے ایک اور منظر سے گڈ مڈ کردیا ہے جس میں یہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی تھی کہ اگرکسی ملک کی فضائی حدود میں اس کے مخالف ملک کے طیارے گھس آتے ہیں تو اس صورت میں بین الاقوامی قانون ان کے خلاف کس کارروائی کی اجازت دیتا ہے؟

برطانوی اخبار اس مرحلے پر العربیہ ٹی وی کے مختلف اینی میشن مناظر میں تمیز کرنے میں بھی ناکام رہا ہے۔اس اینی میشن میں واضح طور پر ایک لڑاکا جیٹ کو ایک مسافر طیارے کا پیچھا کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے اور دوسرے منظر میں اس طیارے کا کوئی لوگو نظر نہیں آرہا ہے۔اخبار نے اس حقیقت کو بھی نظر انداز کردیا ہے کہ سعودی حکام نے کسی ہنگامی حالت کی صورت میں قطری طیاروں کو روٹ استعمال کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

ان فاش اغلاط کے علاوہ انڈی پینڈنٹ نے ایک اور مضحکہ خیز دعویٰ یہ کیا ہے کہ یہ ویڈیو سعودی عرب کی جانب سے جاری کی گئی تھی ۔ حالانکہ یہ ویڈیو سعودی کی سرکاری پریس ایجنسی نے جاری نہیں کی تھی بلکہ العربیہ نیوز چینل کی اپنی تیار کردہ ہے۔

مزید برآں اخبار نے رپورٹ کے صرف 26 سیکنڈز کے کلپ کا حوالہ دیا ہے جبکہ پوری رپورٹ قریباًدو منٹ کی ہے اور یہ العربیہ انگلش کی ویب سائٹ پر ذیلی عنوانات (سب ٹائٹلز) کے ساتھ ایک ہفتہ قبل پوسٹ کی گئی تھی اور اس میں رپورٹ کا عربی کے ساتھ انگریزی میں ترجمہ دیا گیا تھا۔

لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ بہت سے مغربی صحافی اس ویڈیو رپورٹ کا درست مفہوم اخذ کرنے اور اس کو سمجھنے میں ناکام رہے ہیں اور انھوں نے اس پر اپنی من پسند ناقدانہ تحریروں کے ذریعے اپنے قارئین یا ناظرین کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ان میں سے سب سے پہلے نیوز ویک کے ٹام او کونر آتے ہیں۔

لیکن او کونر کے پس منظر کے بارے میں جاننے سے یہ پتا چلتا ہے کہ وہ قطر کے نیوز چینل الجزیرہ عربی پر اکثر نمودار ہوتے رہتے ہیں۔ اس سے بات بڑی واضح ہوجاتی ہے کیونکہ الجزیرہ ہی نے قطر کابائیکاٹ کرنے والے چار ممالک کے خلاف شدو مد سے مہم چلائی تھی۔

سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، مصر اور بحرین نے جون کے اوائل سے قطر کا بائیکاٹ کررکھا ہے اور اس کے ساتھ ہرقسم کے سفارتی ، سیاسی اور تجارتی تعلقات منطقع کر لیے تھے ۔انھوں نے قطر کو تعلقات کی بحالی کے لیے مطالبات کی ایک فہرست پیش کی تھی اور اس میں اس خلیجی ریاست سے الجزیرہ نیوز چینل کو بند کرنے کا مطالبہ بھی شامل تھا۔سعودی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے شہریوں اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے قطری طیاروں کے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے پر پابندی عاید کی ہے۔