.

بارسلونا گروپ نے دنیا کے ایک مشہور ترین کلیسا کی تباہی کا منصوبہ بنایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کے روز ہسپانیہ کے شہر بارسلونا میں مراکشی ڈرائیور نے اپنی گاڑی کے ذریعے لوگوں کو کچل کر 14 افراد کو موت کی نیند سلا دیا جب کہ 100 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے۔ اس معاملے کا زیادہ خطرناک پہلو یہ ہے کہ مذکورہ گاڑی کو لوگوں کو روندنے کے واسطے کرائے پر نہیں لیا گیا تھا بلکہ اس کو "شیطان کی ماں" کے نام سے معروف دھماکا خیز مواد 'ایسیٹون پرآکسائڈ' سے بھرنے کے بعد اس کے ذریعے دنیا کے ایک مشہور اور اہم ترین کلیسا کو تباہ کیا جانا تھا۔ اس کلیسا کا نامSagrada Familia ہے جو ہسپانیہ کے 12 اہم ترین تاریخی ورثے کے خزانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ تاہم دہشت گردوں نے ہنگامی طور پر اپنا منصوبہ تبدیل کیا اور اس گاڑی کو کلیسا کی تباہی کے بجائے لوگوں کو کچلنے کے واسطے استعمال کیا۔

اس بات کا انکشاف ان ہسپانوی تحقیق کاروں نے کیا جنہوں نے "بارسلونا گروپ" کے ارکان کی جانب سے گزشتہ ایک سال سے کرائے پر لیے گئے مکان کے ملبے کی تلاشی لی۔ کاتالونیا ریجن میں بارسلونا سے 158 کلومیٹر کی دوری پر واقع اس مکان کا بڑا حصہ بدھ کی شب دھماکا خیز آلات کے غلط طور پر جُڑ جانے کی وجہ سے ہونے والے دھماکے سے تباہ ہو گیا۔ واقعے میں ایک شخص ہلاک اور سولہ زخمی ہو گئے۔ ہسپانوی میڈیا کے مطابق دہشت گردوں نے یہاں گیس کے 106 پائپ ، ایندھن اور دھماکا خیز آلات کو جمع کر رکھا تھا۔

دہشت گرد سیل نے اپنے ارکان کے ہنگامی اجلاس کے دوران فوری طور پر اپنا منصوبہ تبدیل کر ڈالا۔ اگلے روز بارسلونا کے وسط میں معروف سیاحتی اور تجارتی شاہراہ Las Lambras پر گاڑی سے لوگوں کو کچلنے کی کارروائی ترتیب دی گئی۔ اس سے قبل مذکورہ شاہراہ پر کار بم دھماکا کیا جانا تھا ، شہر کی بندرگاہ کو دھماکا خیز مواد سے بھری ایک دوسری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا جانا تھا اور تیسری گاڑی کے ذریعے Sagrada Familia کلیسا کو تباہ کیا جانا تھا۔

اگر نیویارک میں 11 ستمبر کو ورلڈ ٹریڈ ٹاور پر ہونے والے دھماکوں کی طرز پر کلیسا کو تباہ کرنے کا منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو اس کے مختلف نوعیت کے دور رس نتائج سامنے آتے۔ اس لیے کہ یہ کلیسیا ایک بڑی مذہبی علامت اور ہسپانیہ کا اہم ترین تاریخی مقام ہے جو ہمیشہ سیاحوں سے بھرا رہتا ہے۔ گزشتہ برس 45 لاکھ افراد نے یہاں کا دورہ کیا۔

اس کلیسا کا ڈیزائنAntoni Gaudi نے تیار کیا۔ اس کی تعمیر کا کام 1882 میں شروع ہوا تاہم یہ 1926 میں 74 سالہ اینٹونی کی وفات تک مکمل نہ ہو سکا تھا۔ 2007 میں اس کا چُناؤ ہسپانیہ کے 12 اہم ترین تاریخی خزانوں میں ہوا۔

بارسلونا کے اس غیر فعّال سیل کا منصوبہ تھا کہ کرائے پر اور اغوا کر کے 3 گاڑیاں حاصل کی جائیں۔ ان میں ایک وین تھی جس کو گیس پائپوں اور مائع ایندھن سے بھر کر داعش کے پسندیدہ دھماکا خیز موادAcetone Peroxide عُرف شیطان کی ماں کے ساتھ کلیسا پہنچانا تھا۔ تاہم دہشت گردوں کے گھر میں ہونے والے دھماکے کے سبب گیس پائپ برباد ہو گئے جس نے گروپ کی تخریب کاری کے اصل ارادے کو خاک میں ملا دیا۔ اس کے بعد گروپ کے ارکان نے محض لوگوں کو کچلنے کی کارروائی پر انحصار کیا۔

گروپ نے ایک رینو وین اور ایک او ڈی آئی گاڑی کرائے پر حاصل کیں۔ دہشت گرد ایک تیسری وین چوری کرنے کا بھی ارادہ تھے جس کو شہر کی بندرگاہ پر دھماکے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔ تاہم انہوں نے اپنے گھر میں ہونے والے دھماکے کے سبب اس کو نظر انداز کر دیا۔

تباہ شدہ گھر کے ملبے تلے ایک دوسرے شخص کی لاش کی موجودگی کی بھی رپورٹ ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ ہلاک ہونے والا یہ دوسرا شخص ہسپانیہ کے شہرRipoll کی ایک مسجد کا سابق مراکشی امام عبد الباقی الساتی ہے جو کہ تین ماہ سے نظروں سے اوجھل رہا۔ گروپ کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ 12 سے 13 ارکان پر مشتمل ہے۔ اس کا ایک 22 سالہ رکن يونس ابو يعقوب فرار ہے جس کو پورے یورپ میں تلاش کیا جا رہا ہے۔ اس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ اس نے سرحد عبور کر کے فرانس میں روپوشی اختیار کر لی ہے۔