.

یمن : معزول صدر علی صالح حوثیوں سے اتحاد ختم کرنے پر آمادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ان کی جماعت اور ان کے اتحادی حوثیوں کے درمیان گہرے اختلافات پائے جاتے ہیں اور اگر یہ جاری رہتے ہیں تو وہ انصار اللہ ( حوثی باغیوں ) سے ناتا توڑنے کو تیار ہیں۔

معزول صدر کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کی ویب سائٹ المعتمر ڈاٹ نیٹ نے ان کی ایک تقریر پوسٹ کی ہے۔اس میں انھوں نے حوثیوں کی جانب سے آیندہ جمعرات کو اپنی جماعت کے پینتیسویں یوم تاسیس کے موقع پر صنعاء میں تقریب منعقد کرنے پر اعتراض پر تبصرہ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ :’’ صنعا ہر کسی کا ہے اور شہر میں افراتفری پھیلانے کی کوششیں ناکام ہوں گی‘‘۔

حوثی باغیوں کا صنعاء پر ستمبر 2014ء سے کنٹرول ہے۔ وہ جنرل پیپلز کانگریس کے تاسیسی اجتماع کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کررہے ہیں اور انھوں نے خود بھی دارالحکومت کے داخلی دروازوں پر جمعرات ہی کو اپنا ایک اجتماع منعقد کرنے کا اعلان کردیا ہے تاکہ علی صالح کے حامیوں کو شہر میں داخلے اور اپنی جماعت کی تقریبات میں شریک ہونے سے روکا جاسکے۔

سابق صدر نے اپنے حامیوں پر زوردیا ہے کہ وہ تشدد میں نہ الجھیں ۔حوثیوں نے مبینہ طور پر گذشتہ ہفتے کے روز السبعین چوک میں علی صالح کی تصاویر اور ان کی جماعت کے بینروں کو اتار پھینکا تھا۔ان کی اس حرکت کی وجہ سے دونوں جماعتوں کے کارکنان تصادم کا خطرہ ہے۔

جنرل پیپلز کانگریس کے کارکنان نے سوشل میڈیا پر علی صالح کی پھٹی ہوئی تصاویر اور ٹوٹے ہوئے بل بورڈز کی تصاویر پوسٹ کی ہیں انھوں نے حوثیوں پر بل بورڈز کو اتار پھینکنے اور توڑنے کے الزامات عاید کیے ہیں۔

معزول صدر نے اپنی تقریر میں حوثیوں کی جانب سے آیندہ جمعرات کو صنعاء کے داخلی دروازے پر اجتماع کے انعقاد کے اعلان پر بھی حیرت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا مقصد دوسری گورنریوں اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے ان کے حامیوں کو اجتماع میں شرکت سے روکنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے حوثیوں کے ساتھ حقیقی شراکت داری پر اتفاق کیا تھا لیکن حوثیوں کی انقلابی کمیٹی کا سیاسی کونسل پر کنٹرول ہے اور یہی کونسل حوثیوں اور علی صالح کی وفادار فورسز کے زیر قبضہ علاقوں پر نظم ونسق کی ذمے دار ہے۔

ان کے اس بیان سے چندے قبل حوثی رہ نما عبدالملک الحوثی نے علی صالح اور ان کی جماعت کی مذمت کی تھی اور یہ کہا تھا کہ ان کے گروپ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جارہا ہے۔