.

یمن : علی صالح کے حامیوں کی صنعاء میں ریلی ، حوثیوں سے کشیدگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح کے ہزاروں حامیوں نے جمعرات کو اپنی جماعت جنرل پیپلز کانگریس کے یوم تاسیس کے موقع پر ریلی نکالی ہے۔

علی صالح کے حامیوں نے حوثی ملیشیا کی مخالفت کے باوجود یہ اجتماع منعقد کیا ہے۔ حوثیوں نے گذشتہ روز ہی سابق صدر کو ایک برائی قرار دیا تھا اور خود کو ملیشیا قرار دینے پر ان کی مذمت کی تھی۔واضح رہے کہ حوثی ملیشیا خود کو انصار اللہ کہتی ہے۔

حوثیوں کی قیادت نے دارالحکومت میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی تجویز پیش کی تھی اور ہر کسی قسم کی جماعتی سرگرمیاں معطل کرنے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے علی صالح کے حامیوں سے کہا تھا کہ انھیں عوامی اجتماعات میدان جنگ میں منعقد کرنے چاہییں، عوامی چوکوں اور چوراہوں میں نہیں لیکن اس سب کے باوجود علی صالح کے ہزاروں حامی ملک کے دوسرے شہروں سے سفر کر کے صنعاء میں پہنچے ہیں۔

معزول صدر نے حفاظتی شیشوں سے شہر کے سبعین چوک میں منعقدہ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہم ہزاروں جنگجوؤں سے محاذوں کو پُر کرنے کے لیے تیار ہیں‘‘۔ انھوں نے گہرے رنگ کا سوٹ پہن رکھا تھا اور مسلح محافظ ان کی حفاظت پر مامور تھے۔

وہ اپنی تقریر کے فوری بعد سبعین چوک سے چلے گئے اور اس کے بعد نزدیک ہی شدید فائرنگ شروع ہوگئی۔تاہم ان کے حامیوں کا کہنا تھا کہ یہ خوشی سے فائرنگ کی جارہی تھی۔انھوں نے حوثی جنگجوؤں کے ساتھ کسی مسلح جھڑپ سے متعلق اطلاعات کی تردید کی ہے۔
جنرل پیپلز کانگریس کے ہزاروں حامی جمعرات کی صبح سے ہی پینتیسویں یوم تاسیس کی تقریب میں شرکت کے لیے سبعین پہنچنا شروع ہوگئے تھے۔انھوں نے علی صالح کی تصاویر والے بینر اٹھا رکھے تھے اور ان کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔

حوثی باغیوں کا صنعاء پر ستمبر 2014ء سے کنٹرول ہے۔انھوں نے جنرل پیپلز کانگریس کے تاسیسی اجتماع کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا اور خود بھی دارالحکومت کے داخلی دروازوں پر الگ سے اپنا ایک اجتماع منعقد کرنے کا اعلان کردیا تھا تاکہ علی صالح کے حامیوں کو شہر میں داخل ہونے سے روکا جاسکے لیکن ان کے کسی متوازی اجتما ع کی کوئی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔