.

ایران یمن کو فرقہ پرست ریاست میں بدلنا چاہتا ہے: المخلافی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ عبدالملک المخلافی نے کہا ہے کہ ایران ایک سازش کے تحت یمن کو فرقہ پرست ریاست اور فوج کو ملیشیاؤں میں بدلنا چاہتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران مسئلے کے حل کا حصہ نہیں بلکہ خود مسئلہ ہے۔

یمن کے نائب وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار ’العربیہ‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران نواز حوثیوں کی بغاوت کے بعد ملک میں انسانی حالات انتہائی ابتر ہیں۔ عالمی ادارے یمن میں موجود انسانی بحران کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔ المخلافی کا کہنا تھا کہ حالیہ ایام میں فریقین میں ہونے والی بات چیت میں حکومت اور باغیوں پر برابر ذمہ داری عاید کی گئی ہے۔

یمنی وزیرخارجہ کا کہنا ہے کہ جن ہوائی اڈوں کا انتظامی کنٹرول باغیوں کے ہاتھ میں ہیں اقوام متحدہ کے طیارے انہیں بغیر اجازت استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے معاون خصوصی اسٹیفن اوبرائن نے ’تعز‘ کے دورے کا وعدہ کیا تھا مگر باغیوں نے انہیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی۔

ان کا کہنا تھا کہ صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کو اقوام متحدہ کے حوالے کرنے پر بات چیت جاری ہے مگر تعز کے گرد باغیوں کے محاصرے کو ختم کرنے کے حوالے سے کوئی بات چیت یا پیش رفت نہیں ہوئی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح تعز سے بغض رکھتے ہیں کیونکہ ان کے خلاف سب سے پہلا مظاہرہ تعز ہی میں کیا گیا تھا۔

المخلافی نے کہا کہ باغیوں نے مرکزی بنک سے کروڑوں کی رقم نکال لی تھی جس کے بعد انہیں بنک کو عدن منتقل کرنا پڑا۔