.

بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں پولیس مرکز پر مسلح حملہ ، 10 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بھارت کے زیر انتظام ریاست جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں سکیورٹی فورسز اور حریت پسندوں کے درمیان لڑائی میں دس افرادہلاک ہوگئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پلوامہ میں سارا دن جنگجوؤں اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے درمیان لڑائی ہوتی رہی ہے۔اس کا آغاز ہفتے کے علی الصباح تین جنگجوؤں کے پولیس کے ایک ہیڈ کوارٹرز پر حملے سے ہوا تھا۔

ریاست کے ڈائریکٹر جنرل پولیس ایس پی وید نے کہا ہے کہ جنگجوؤں نے جنوبی ضلع پلوامہ میں واقع پولیس ہیڈ کوارٹرز میں داخل ہونے کے لیے پہلے دستی بم پھینکے تھے اور پھر خودکار آتشیں ہتھیارو ں سے فائرنگ شروع کردی تھی۔ابتدائی حملے میں ایک پولیس افسر ہلاک اور نیم فوجی دستوں کے تین اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔انھیں فوری طور پر نزدیک واقع اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ بعد میں حملے میں پولیس کے مزید تین اہلکار اور سنٹرل ریزرو پولیس کے چار اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔بھارتی سکیورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں دو جنگجو بھی مارے گئے ہیں اور تیسرا ہیڈ کوارٹرز ہی میں کہیں چھپ گیا تھا اور ا س کی تلاش کی جارہی تھی۔

پولیس نے الگ سے ایک بیان میں کہا ہے کہ کمپاؤنڈ میں افسروں اور اہلکاروں کے خاندان بھی مقیم ہیں ۔ حملے کے بعد وہاں موجود تما م خاندانوں کو بہ حفاظت نکال لیا گیا تھا اور جنگجوؤں نے کسی فرد کو یرغمال نہیں بنایا ہے۔

دریں اثناء علاقے کے مکینوں نے پولیس ہیڈ کوارٹرز کے نزدیک اکٹھے ہو کر وقفے وقفے سے احتجاج کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے اشک آور گیس کے گولے پھینک کر انھیں منتشر کردیا۔

واضح رہے کہ بھارتی سکیورٹی فورسز نے متنازع ریاست جموں وکشمیر میں مسلح مزاحمت پر قابو پانے کے لیے اس سال کے اوائل سے کارروائیاں تیز کررکھی ہیں اور انھوں نے جھڑپوں اور کریک ڈاؤن کارروائیوں میں اب تک ایک سو چھتیس حریت پسندوں کو ہلاک کردیا ہے۔ان میں مزاحمتی تنظیموں کے بعض سرکردہ کمانڈر بھی شامل ہیں۔