.

عرب اتحاد کی صنعاء میں حوثی ملیشیا کے کمان مرکز پر فضائی بمباری

شہری آبادی میں حوثیوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا: ترجمان کرنل ترکی المالکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کے طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعا ءمیں حوثی ملیشیا کے ایک کمان اور کنٹرول مرکز پر بمباری کی ہے۔

حوثی ملیشیا نے اس حملے کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس میں ایک رہائشی مکان کو نشانہ بنایا گیا تھا لیکن عرب اتحادی فورسز کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ہفتے کے روز ایک بیان میں اس دعوے کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ جمعے کو اس فضائی حملے میں ایک ’’جائز فوجی ہدف‘‘ کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اتحاد کی مشترکہ کمان کی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا ہے کہ حملے میں حوثی ملیشیا کے ایک ابلاغی کمان اور کنٹرول مرکز کو ہدف بنایا گیا تھا۔یہ شہری آبادی کے درمیان میں بنایا گیا تھا تا کہ عام شہریوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ حملے کی منصوبہ بندی اور طریق کار سے متعلق تمام دستاویزات کا جائزہ لیا گیا ہے اور اس واقعے میں کوئی غلطی نظر نہیں آئی ہے۔ تاہم ایک فنی غلطی کی بنا پر غیر ارادی طور پر شہریوں کا ضمنی نقصان ہوا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جائزے سے اس بات کا بھی انکشاف ہواہے کہ شہری مکان کو براہ راست ہدف نہیں بنایا گیا تھا۔

کرنل ترکی المالکی نے اتحاد کی جانب سے فضائی بمباری میں شہریوں کے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ اتحاد کی قیادت نے اس واقعے میں نقصانات کا اندازہ لگانے کےلیے ایک ٹیم کو تحقیقات کی ذمے داری سونپی ہے ۔

انھوں نے عرب اتحاد کے عالمی انسانی قانون کی مکمل پاسداری اور بالخصوص شہریوں کے تحفظ کے لیے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ اس قسم کے واقعات کی صورت میں شفافیت کے اصولوں کے علاوہ قانونی اور اخلاقی تقاضوں کو پورا کرے گا۔