.

امریکا میں پولیس اب فوج کے ہتھیار اور آلات استعمال کرے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پولیس کو فوج کے ہتھیار اور جدید آلات مہیا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور پولیس بھی اب فوج کی طرح جدید آتشیں رائفلیں اور بم پھینکنے والے لانچرز استعمال کرسکے گی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوموار کے روز پولیس کے ایک کنونشن کے موقع پر اس فیصلے کا اعلان کیا ہے ۔ حاضرین نے اس پر خوب داد وتحسین کے ڈونگرے برسائے ہیں۔

امریکا کے اٹارنی جنرل جیف سیشنز نے اجتما ع سے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’ اس منصوبے کے تحت آپ ( پولیس) اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے زندگی بچانے والے آلات حاصل کرسکیں گے اور اس سے ایک مضبوط پیغام جائے گا کہ ہم مجرمانہ سرگرمی ، تشدد اور لاقانونیت کو ایک نیا معمول نہیں بننے دیں گے‘‘۔

صدر ٹرمپ اس ضمن میں ایک حکم نامے پر دست خط کرنے والے ہیں۔اس کے تحت سابق صدر براک اوباما کے دور سے پولیس کی ایجنسیوں پر کیموفلاج وردیوں ، بلٹ پروف جیکٹوں ، مظاہروں کے دوران آہنی ڈھال ،آتشیں ہتھیاروں اور دوسری اشیاء کے استعمال پر عاید پابندی ختم کردی جائے گی۔

اس اقدام کا ایک مقصد متشدد جرائم کے خاتمے کے لیے وفاق کی جانب سے مقامی پولیس کو مدد بہم پہنچانا ہے۔تاہم مختلف سیاسی پس منظر رکھنے والے گروپوں نے پولیس کو فوجی رنگ میں رنگنے کے اقدام پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پولیس کو فوج کے ہتھیار مہیا ہونے سے مسلح تصادم کے واقعات میں اضافہ ہوگا۔

تاہم قانون کے نفاذ کی ذمے دار بہت سی ایجنسیوں اور پولیس کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ افسروں کو کسی بھی خطرے سے دوچار ہونے سے بچانے کے لیے یہ ایک ناگزیر فیصلہ ہے اور وہ مسلح حملہ آوروں اور دہشت گردوں کے حملے کی صورت میں موثر جواب دے سکیں گے۔ان کا کہنا ہے کہ ریاست کیلی فورنیا کے شہر سان برنارڈینو میں دسمبر 2015ء میں فائرنگ کے واقعے کے وقت پولیس کی ایک بکتربند گاڑی نے صورت حال پر قابو پانے میں نمایاں کردار ادا کیا تھا۔