.

طبّ کی دنیا میں انقلاب: سوزش کی دوا سے دو مہلک امراض کا علاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ہارورڈ یونی ورسٹی کے طبی ماہرین کی تحقیق کے مطابق سوزش کم کرنے کے لیے تیار کردہ ایک دوا انقلابی صورت اختیار کرتے ہوئے اب دو خطرناک امراض یعنی دل کی بیماریوں اور سرطان کے خطرے کو کم کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔

سائنسی جریدےNew England Journal of Medicine میں شائع شدہ اور عالمی میڈیا کی زینت بننے والی رپورٹ کے مطابق سوزش کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا Canakinumab کا انجیکشن اب امراض قلب اور سرطان کے علاج کے ایک نئے عہد کی خوش خبری سنا رہا ہے۔

تحقیق میں شامل سائنسی ٹیم نے 4 برس تک 10 ہزار سے زیادہ ایسے افراد پر اپنے تجربات کیے جو ماضی میں دل کے دوروں کا شکار ہو چکے تھے یا سرطان کے مرض میں مبتلا تھے۔ تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ متاثرہ افراد میں دل کے دوروں کی شرح میں 24فی صد کی کمی آئی۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ دل کے دورے میں بچ جانے والے افراد میں سے پچیس فی صد کو اگلے 5 برسوں کے دوران مزید دوروں کا سامنا ہوتا ہے تاہم اس نئی دوا نے دوروں کے دوبارہ پڑنے پر بڑی حد تک روک لگا دی۔

تحقیق کے نتائج سے یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ جن افراد پر تجربات کیے گئے ان میں انجائنا کے دورے کا تناسب بھی تقریبا 17فی صد تک کم ہو گیا۔ علاوہ ازیں اس دوا کو علاج کے طور پر استعمال کرنے والے سرطان کے مریضوں میں اموات کی شرح 51فی صد کم ہوئی۔ یاد رہے کہ Canakinumab نامی دوا کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی اور یورپیئن ڈرگ ایجنسی کی جانب سے 2009 میں سوزش کے علاج کی دوا کی حیثیت سے منظوری حاصل ہوئی تھی۔

مذکورہ دوا سوئس کمپنیNovartis تیار کرتی ہے اور اس کا تجارتی نامIlaris ہے۔ مشکل یہ ہے کہ قیمت کے لحاظ سے یہ مہنگی ترین دواؤں میں سے ہے اور اس کے استعمال کے ایک سال کے اخراجات 50 ہزار ڈالر سے زیادہ ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق امراض قلب اور خون کی شریانوں کی بیماریاں دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ ہر سال قریباً 1.73 کروڑ افراد امراض قلب کے سبب دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں ، یہ دنیا بھر میں وفات پانے والے افراد کی مجموعی تعداد کا 30فی صد ہے۔ توقع ہے کہ سال 2030 تک یہ تعداد بڑھ کر سالانہ 2.3 کروڑ ہو جائے گی۔