.

انتہا پسند جرمن لیڈر کے خاتون وزیر کے خلاف ہتک آمیز بیان پر ہنگامہ!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی میں چانسلر کے منصب کے لیے An alternative for Germany پارٹی سے تعلق رکھنے والے دائیں بازو کے انتہا پسند امیدوار الیگزینڈر گاؤلینڈ کو مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید اور غصے کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورتِ حال گاؤلینڈ کی جانب سے جرمنی کی تُرک نژاد مسلمان وزیر مملکت برائے انضمام "آئیدان اوزگیوز" کے متعلق ہتک آمیز بیان کے بعد سامنے آئی ہے۔

گاؤلینڈ نے اپنی جماعت کے ایک اجلاس میں کہا تھا کہ "ہم اوزگیوز کو اٹھا کر اناطولیہ میں پھینک دیں گے"۔ گاؤلینڈ اس سے قبل اپنے ایک بیان میں یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ "جرمن زبان سے ہٹ کر جرمن ثقافت کی شناخت کسی طور ممکن نہیں"۔ جرمن اخبار بیلڈ کے مطابق پارٹی کے نائب سربراہ گاؤلینڈ نے خاتون وزیر کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے "پھینک دینے" کی اصطلاح استعمال کی جس پر ان کے حامیوں نے بھرپور انداز سے تالیاں بجائیں۔

سوشل ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والی یورپی پارلیمنٹ کی خاتون رکن بیرجت سیپل نے گاؤلینڈ کے بیان کو نسل پرستانہ اور غیر انسانی قرار دیا۔

ادھر پارٹی کے نائب سربراہ رالف اسٹنگر نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں کہا ہے کہ "گاؤلینڈ نے ہماری جماعت کی وزیر کو نفرت انگیز طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا ہے"۔

دوسری جانب جرمن وزارت خارجہ کی فلسطینی نژاد سابق ترجمان سوسن شبلے نے ٹوئیٹر پر ایک بیان میں کہا ہے کہ An alternative for Germany پارٹی کو ووٹ دینے والے ہر شخص کو یہ دیکھ لینا چاہیے کہ وہ نسل پرستی کو ووٹ دے رہا ہے۔

انہوں نے تمام ڈیموکریٹک حلقوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گاؤلینڈ کی جماعت کے حوالے سے ایک متحد موقف اپنائے۔

واضح رہے کہ گاؤلینڈ ماضی میں ایک بیان میں یہ ہرزہ سرائی بھی کر چکے ہیں کہ "جرمنی میں اسلام کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے"۔

مختلف سروے رپورٹوں میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ 24 ستمبر کو ہونے والے آئندہ پارلیمانی انتخابات میں گاؤلینڈ کی An alternative for Germany پارٹی اینگلا مرکل کی پارٹی "کرسچن ڈیموکریٹک الائنس" اور مارٹن شولٹز کی "سوشل ڈیموکریٹک" پارٹی کے بعد تیسری پوزیشن حاصل کرے گی۔