.

ایران : شام میں ہلاک باسیج کمانڈر اور 35 افغانوں کی تدفین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی میڈیا نے بتایا ہے کہ پاسداران انقلاب کی ذیلی ملیشیا باسیج کے ایک کمانڈر اور باسیج کے زیر انتظام لڑنے والی افغان ملیشیا فاطمیون کے 35 جنگجوؤں کی جو گزشتہ چند کے روز دوران شام کے مختلف علاقوں میں مارے گئے تھے، ایران میں تدفین کر دی گئی ہے۔

ایرانی خبر رساں ایجنسی "تسنيم" کے مطابق ابراہیم خلیلی شام بھیجے جانے سے قبل تہران میں باسج کے اڈے "سبحان" کا کمانڈر تھا۔ وہ ایران عراق جنگ کے دوران 80ء کی دہائی میں پاسداران انقلاب کی جاسوس ٹیم کا رکن بھی رہ چکا ہے۔ خلیلی چند روز قبل شام کے شہر حلب کے مشرق میں دھماکا خیز آلہ پھٹنے کے نتیجے میں اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

ادھر ایران نے گزشتہ چند روز کے دوران افغان ملیشیا فاطمیون کے 35 ارکان کو دفنایا۔ ان میں اکثر جنگجو شام عراق اردن کے درمیان سرحدی تکون کے قریب واقع علاقے التنف، حمص کے مشرق اور دیر الزور کے جنوب میں ہونے والے معرکوں میں مارے گئے۔

یاد رہے کہ ایران کی جانب سے شام کے مختلف علاقوں میں سیف زون کے معاہدوں کی پاسداری کے اعلان کے باوجود ایران مختلف محاذوں پر شامی اپوزیشن کے گروپوں کے خلاف لڑائی میں مصروف ہے۔ اس کا مقصد داعش تنظیم کے قبضے سے چھینے جانے والے علاقوں پر اپنا کنٹرول قائم کرنا ہے۔ شام کے مختلف علاقوں میں ہونے والے ان معرکوں کے دوران پاسداران انقلاب کے درجنوں افسران کے علاوہ افغان، پاکستانی اور عراقی ملیشیا کے عناصر بھی اپنی زندگیاں گنوا بیٹھے۔

ایران کے نئے وزیر دفاع بریگیڈیئر جنرل امیر حاتمی نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ایران "مزاحمتی محور" کے لیے اپنی سپورٹ جاری رکھے گا۔ مزاحمتی محور وہ اصطلاح ہے جو ایران خطے میں اپنے حلیفوں کے واسطے استعمال کرتا ہے۔ ان حلیفوں میں بشار الاسد کی حکومت اور عراق ، شام ، لبنان اور یمن میں فرقہ وارانہ ملیشیائیں شامل ہیں۔

اس بیان سے اور بشار حکومت کے لیے جاری سپورٹ سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ روحانی حکومت جو خود کو اعتدال پسند قرار دیتی ہے.. اس کی پالیسی بھی کسی طور سخت گیروں اور پاسداران انقلاب کی پالیسی سے مختلف نہیں۔ انقلاب کی برآمد ، قومی سلامتی کی حفاظت، شیعہ مقامات مقدسہ کے تحفظ کے نعروں کو جواز بنا کر ایرانی نظام نے خطے میں اپنے توسیعی منصوبے پر عمل درامد جاری رکھا ہوا ہے۔