.

ایران :فوجی تنصیبات کے معائنے کے لیے امریکا کا مطالبہ مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے اقوام متحدہ کے جوہری انسپکٹروں کے ذریعے اپنی فوجی تنصیبات کے معائنے کے لیے امریکا کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے جبکہ امریکا ایران اور چھے عالمی طاقتوں کے درمیان 2015ء میں طے شدہ معاہدے پر نظرثانی کررہا ہے۔

ایرانی حکومت کے ترجمان محمد باقر نو بخت نے منگل کے روز اپنی ہفتہ وار نیوز کانفرنس میں کہا ہے کہ ’’ ایران کی فوجی تنصیبات میں (بیرونی عناصر کا ) داخلہ بند ہے۔ان تنصیبات کے بارے میں تمام معلومات خفیہ ہیں۔ ایران ان کے معائنے کی اجازت نہیں دے گا ۔اس لیے ایسے بیانات جاری نہ کیے جائیں جو صرف ایک خواب ہی ہوسکتے ہیں‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے پیش رو براک اوباما کے دور میں طے شدہ اس معاہدے کو بدترین قرار دے چکے ہیں۔ انھوں نے اپریل میں امریکی حکا م کو اس بات کے جائزے کا حکم دیا تھا کہ آیا ایران کے خلاف عاید جوہری پابندیوں کی معطلی امریکا کے مفاد میں ہے۔

اقوام متحدہ میں متعیّن امریکا کی سفیر نِکی ہیلی نے گذشتہ ہفتے جوہری توانائی کے عالمی ادارے (آئی اے ای اے) سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ ایران کی جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل کرے اور اس بات کا جائزہ لے کہ وہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کو چھپا تو نہیں رہا ہے۔

امریکی قانون کے تحت محکمہ خارجہ کو ہر نوّے روز کے بعد کانگریس کو اس بات سے آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ ایران جوہری معاہدے کی پاسداری کررہا ہے۔محکمہ خارجہ اب اکتوبر میں ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ تب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو یقین ہے، امریکا یہ اعلان کر دے گا کہ ایران جوہری معاہدے کی پاسداری نہیں کررہا ہے۔

جوہری معاہدے کی شرائط کے تحت ویانا میں قائم جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو اگر ایران کی جوہری سرگرمیوں یا مواد کے بارے میں کوئی تشویش لاحق ہو تو وہ اس کی جوہری تنصیبات کے معائنے کا مطالبہ کرسکتا ہے۔