.

یمن: صالح اور حوثیوں کے بیچ مصالحت میں حسن نصر اللہ کا ہاتھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں معزول صدر علی عبداللہ صالح کی جماعت جنرل پیپلز کانگریس سے تعلق رکھنے والے ایک رکن پارلیمنٹ نے انکشاف کیا ہے کہ پیر کی شام صنعاء میں باغی فریقین کے درمیان طے پائے جانے والے سمجھوتے کے پیچھے اصل ہاتھ لبنانی تنظیم حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کا ہے۔

معزول صدر علی عبداللہ صالح کی فورسز اورحوثیوں کے درمیان جمعرات سے کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا جس کے نتیجے میں فریقین کے 4 ارکان بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پیپلز کانگریس سے تعلق رکھنے والا کرنل خالد الرضی شامل ہے۔

جنرل پیلز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر عبدالرحمن معزب نے حالات پر امن بنانے کے لیے طے پائے جانے والے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ "صنعاء کو ممکنہ تباہی سے بچانے کا سہرا پیپلز کانگریس کے رہ نماؤں کی مروّت یا پارٹی اور اس کے ارکان کو نشانہ بنانے والے الزامات اور بیانات کے سر نہیں.. اور نہ ہی اس میں گزشتہ رات کانگریس اور حامیوں کے درمیان اتفاق رائے یا یمنی دانش مندی کا کسی طور کوئی ہاتھ ہے بلکہ یہ سب مہربانی حسن نصر اللہ کی ہے"۔

فیس بک پر اپنی پوسٹ میں ڈاکٹر عبدالرحمن نے باور کرایا کہ "حسن نصر اللہ نے اس حوالے سے اپنی ذمے داری محسوس کی لہذا میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں"۔

بتایا جا رہا ہے کہ بغاوت کے دونوں فریقوں کے درمیان طے پائے جانے والے معاہدے میں صنعاء میں حالیہ کشیدگی اور تناؤ کی تمام تر وجوہات کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی دارالحکومت میں امن و امان کی صورت حال کو پھر سے معمول کی اُسی صورت پر لایا جائے گا جو گزشتہ ہفتے جنرل پیپلز کانگریس کی سرگرمیوں سے قبل تھی۔

حوثیوں کے زیر کنٹرول خبر رساں ایجنسی "سبا" کے مطابق صنعاء میں پیر کے روز وسیع پیمانے پر ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں باغیوں کی سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد، اس کے نائب ، کونسل کے متعدد ارکان اور جانبین کے کئی رہ نما شریک ہوئے۔

اجلاس میں ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ مجوزہ حلوں ، میڈیا اور پالیسی سے متعلق تجاویز کو سامنے رکھا جا سکے اور ساتھ ہی "دشمن" کا مقابلہ کرنے کے لیے کوششوں کو متحد کیا جا سکے۔