.

’شمالی کوریا کا میزائل جاپان کی فضاء سے گزر کر سمندر میں جا گرا‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان اور جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے ایک نئے بیلسٹک میزائل کاتجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل جاپان کے اوپر سے گزر کر سمندر میں گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ شمالی کوریا کا میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گزارا ہے۔ اس سے قبل سنہ 2009ء میں شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل فضا میں چھوڑا تھا جو جاپان کی فضائی حدود سے گذرا۔ اس وقت شمالی کوریا نے دعویٰ کیا تھا اس نے بیلسٹک میزائل کے ذریعے ایک مصنوعی سیارہ خلا میں بھیجا ہے۔

جاپان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جانب سے تازہ میزائل کا یہ تجربہ علی الصبح کیا گیا، جو ملک کے مشرقی علاقے سے گزرتا ہوا سمندر میں جا گرا۔ جاپان کی حکومت نے میزائل کو مار گرانے کی کوشش نہیں کی۔

میزائل گزرنے سے سائرن بجنے لگے اور لوگوں سے کہا گیا کہ وہ تہہ خانوں میں چلے جائیں۔ مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق میزائل اپنے ہدف تک پہچنے سے پہلے ہی تین ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔

یاد رہے کہ گذشتہ ہفتہ شمالی کوریا نے مختصر فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کے تین تجربے کیے تھے۔

اس حالیہ تجربے کے بعد جاپان کی حکومت نے میزائل کی حد میں آنے والے افراد کو محتاط رہنے کو کہا لیکن سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق کسی قسم کے نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے گذشتہ روز سوموار کو علی الصباح مقامی وقت کے مطابق چھ بج کر چھ منٹ پر دارالحکومت پیانگ یانگ کے قریبی مرکز سونان سے داغا۔ یہ میزائل 550 کلو میٹر بلندی سے 2700 کلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے جاپان سے گذر کر سمندر میں جا گرا۔

شمالی کوریا کے اس اقدام کے بعد جاپان کے وزیراعظم شینزو آبے نے کہا ہے کہ اُن کا ملک اپنی عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کر رہا ہے۔

جاپان کی کابینہ کے چیف سیکریٹری نے حالیہ تجربے کو 'غیر مثالی اور گہرا خطرہ' قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ جاپان اس کے ردعمل میں 'اہم اقدامات' کرے گا۔

امریکی محکمۃ دفاع پینٹاگان کا کہنا ہے کہ حالیہ تجربہ امریکا کے لیے خطرہ نہیں ہے اور امریکی افواج اس کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کر رہی ہیں۔

اس سے پہلے شمالی کوریا نے گوام میں میزائل داغا تھا جس کے جواب میں امریکی صدر نے شمالی کوریا کو خبردار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا ملک شمالی کوریا کے خلاف فوجی کارروائی پر مجبور ہوسکتا ہے۔