.

قطر کے بحران کے حل کے لیے "خلیج تعاون کونسل" موزوں ترین ہے: لاؤروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاؤروف نے باور کرایا ہے کہ ان کا ملک قطر اور بائیکاٹ کرنے والے چاروں ممالک (سعودی عرب ، امارات ، بحرین اور مصر) کے درمیان ثالثی کا کردار ادا نہیں کر رہا ہے اور بحران کا حل خلیج تعاون کونسل کے اندر ہونا چاہیے۔

بدھ کے روز دوحہ میں اپنے قطری ہم منصب محمد بن عبدالرحمن آل ثانی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں روسی وزیر خارجہ نے واضح کیا کہ موزوں ترین راستہ یہ ہے کہ اس بحران کا تصفیہ خلیج تعاون کونسل کے ذیل میں ہو۔ انہوں نے کہا کہ "ثالثی کی ذمے داری ہمارے سپرد نہیں بلکہ اس سلسلے میں کویت بطور ثالثی موجود ہے"۔

لاؤروف نے زور دے کر کہا کہ "ہم امیرِ کویت کے ثالثی کے مشن کے لیے اپنی سپورٹ کی یقین دہانی کرا چکے ہیں اور اگر تمام فریق مفید جانیں گے تو ہم ان کوششوں میں حصہ لینے کے لیے بھی تیار ہوں گے"۔

یاد رہے کہ سرگئی لاؤروف متحدہ عرب امارات سے قطر کے دارالحکومت پہنچے تھے۔ امارات میں میں انہوں نے ابوظبی کے ولی عہد سے ملاقات کی۔ اس سے قبل روسی وزیر خارجہ نے کویت کے سینئر عہدے داران سے ملاقات کی تھی جو دوحہ اور بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے درمیان ثالثی کی کوششیں بروئے کار لا رہا ہے۔