.

الرقہ میں لڑائی، اسدی فوج اور داعش کے 64 عناصر ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انسانی حقوق کی تنظیموں کی فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شام کے شمالی شہر الرقہ میں ’داعش‘ اور اسد رجیم کی حامی فوج کےدرمیان گھمسان کی لڑائی میں فریقین کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’ہیومن رائٹس آبزرویٹری‘ کے بدھ کے روز جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ داعش اور اسدی فوج کے درمیان لڑائی میں دونوں طرف سے کم سے کم 64 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

داعش اور اسدی فوج کے درمیان یہ لڑائی ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب شام کی سرکاری فوج الرقہ سے گذر کر پڑوسی شہر دیر الزور میں داخل ہونے کے لیے پیش قدمی کررہی ہے۔ دیر الزور الرقہ کے بعد شام میں داعش کا آخری سب سے مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

منگل اور بدھ کے روز لڑائی میں 38 داعشی انتہا پسند اور 26 شامی فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔ گذشتہ چھ روز کے دوران دونوں طرف سے ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 145 عناصر کو ہلاک کیا گیا۔

انسانی حقوق گروپ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ الرقہ میں اسدی فوج اور داعش کے درمیان گھمسان کی لڑائی کی اطلاعات ہیں جس میں دسیوں شامی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی خبریں آئی ہیں۔