.

یمن کے معزول صدر ایک مدت بعد منظر عام پر آ گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح چار برسوں کی روپوشی کے بعد پہلی مرتبہ دارلحکومت صنعاء میں نظر آئے ہیں۔

وہ گذشتہ ہفتے حوثی باغیوں کے ایک دوسرے گروپ کے ساتھ اپنے حامیوں کی جھڑپوں میں مارے جانے والے اپنے قریبی ساتھی بریگیڈئر خالد الرضی کے جنازے میں شرکت کے لئے دارلحکومت کی سڑکوں پر جلوس میں دیکھے گئے۔ انہوں نے خالد الرضی کے قتل کی فوری تحقیقات کرتے ہوئے اس میں ملوث ملزموں کو کیفردار تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

علی عبداللہ صالح ہی کی جماعت کے ایک رہنما عادل الشجاع کا کہنا ہے کہ حوثی گروپ داعش کی طرز پرجتھہ بندی کر کے دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ حوثی گروپ ایک سرطان کی صورت اختیار کر چکا ہے، ان کے خلاف کارروائی کرنا ضروری ہو گیا ہے۔

معزول صدر السبعین گراونڈ میں ہونے والی کانفرنس کے بعد پہلی مرتبہ عوام کے اندر چلتے پھرتے دیکھے گئے ہیں۔ انہوں نے جنازے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ جس رات حوثیوں سے جھڑپیں ہوئیں اسی شب میرے بیٹے کو ایک سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر روکا لیا گیا اور اپنا تعارف کرانے کے باوجود ان کی جامہ تلاشی لی گئی جس کے بعد چوکی پر موجود مسلح افراد نے میرے بیٹے کے ساتھ سیکیورٹی گارڈز کی گاڑی پر فائرنگ کی۔

ان واقعات کے بعد دارلحکومت میں کشیدگی پائی جاتی ہے اور طرفین اس ساری صورتحال کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈال رہے ہیں۔ حوثی دارلحکومت کی سڑکوں پر لگائے ناکے ہٹانے میں لیت ولعل سے کام لے رہے ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ دونوں فریقین سیز فائر معاہدے پر دستخط کے باوجود تناو کی کیفیت برقرار رکھنے میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ حوثی وعدہ خلافی میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔

علی عبداللہ صالح کی سیاسی جماعت حوثیوں کے ساتھ اپنی شراکت کاری کو جاری رکھنے کے لئے اس بات پر زور دیتی چلی آئی ہے کہ حوثی سرکاری کمیٹیوں اور عہدے چھوڑ دیں جبکہ بن حبتور کی حکومت اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکے۔ دوسری جانب حوثی، علی عبداللہ صالح کے حامیوں کو فوجی، سول اور سیکیورٹی اداروں سے بلڈوز کر کے نکال رہی ہے۔