.

رمی جمرات کے بعد حاجی ایام تشریق کی تیاری میں مصروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حجاج کرام کی ایک بڑی تعداد نے جمعہ کے روز بڑے شیطان کو کنکریاں مارنے کا عمل مکمل کر لیا۔ اس مقصد کے لئے وہ پرسوں علی الصباح مزدلفہ سے منی آئے تھے۔ کنکریاں مارنے کے بعد حاجیوں کی بڑی تعداد حج کا تیسرا رکن طواف الافاضہ ادا کرنے حرم مکی روانہ ہو گئی۔

عید الاضحی کے پہلے دن حاجی تین روزہ ایام تشریق کی پہلی شب منی میں گذارنے واپس آ جاتے ہیں، جس کے بعد وہ عید کے دوسرے روز سورج کے زوال کے بعد شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔

تاہم عذر شرعی کی وجہ سے حاجیوں کو قربانی کی شب رات گئے سے ہی کنکریاں مارنے کی اجازت ہوتی ہے۔ حاجی مزدلفہ سے جمع کردہ کنکریوں سے شیطان کو مارتے ہیں۔

ایام تشریق میں حاجی صاحبان بڑے، درمیانے اور چھوٹے شیطان کو سات سات کنکریاں مارتے ہیں۔ کسی حاجی کو عذر شرعی لاحق ہو جائے تو ایسے افراد نصف شب کے بعد بھی شیطان کو کنکر مار سکتے ہیں۔

ادھر مرکزی محکمہ شماریات نے حج کے حتمی اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے بتایا کہ اس سال تیئس لاکھ باون ہزار ایک سو بائیس فرزندان توحید نے حج کی سعادت حاصل کی۔ ان میں سترہ لاکھ باون ہزار ایک سو بائیس حاجی دوسرے ممالک جبکہ اندرون ملک سے چھ لاکھ ایک سو آٹھ افراد نے حج کی سعادت حاصل کی۔

نو ذی الحج بروز جمعرات کو حج کا رکن اعظم ادا کیا گیا جس کے بعد غروب آفتاب کے وقت حجاج کرام مزدلفہ روانہ ہو گئے، جہاں اگلے روز منی واپسی پر انہوں نے شیطان کو کنکریاں ماریں اور قربانی کے بعد سر کے بال منڈوائے جس کے بعد ان پر احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔