.

صنعاء: معزول صالح اور حوثی ملیشیا کے درمیان کشمکش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے معزول صدر علی عبداللہ صالح نے سیاسی کونسل کے معاہدے کے تحت صنعاء میں ریاست کے انتظامی امور میں حوثیوں کے ساتھ شراکت کی پاسداری کا مطالبہ کیا ہے۔ صالح کے مطابق عسکری اور سکیورٹی اداروں پر اعتماد بحال کرنے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

صنعاء میں ابھی تک صورت حال یہ ہے کہ بظاہر انتباہی خاموشی کے باوجود بغاوت کے دونوں شراکت دار ایک دوسرے کے ساتھ تصادم کے لیے تیار بیٹھے ہیں۔

اس ماحول میں معزول صدر صالح کی جماعت اپنے حامیوں اور دارالحکومت کے باسیوں کو مطمئن کرنے کے لیے پیغامات جاری کر رہی ہے جن کا مقصد حالات کو مزید تشدد کی جانب جانے سے روکنا ہے۔

صالح کی جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کی جنرل کمیٹی یا سیاسی بیورو کے اجلاس میں کہا گیا کہ ہفتے کی شب صنعاء کے علاقے جولۃ المصباحی میں ہونے والی جھڑپیں سر پر منڈلانے والے خطرے کی گھنٹی ہیں۔ ساتھ ہی باہمی صفوں میں اتحاد قائم رکھنے پر زور دیا گیا۔

صنعاء میں ذرائع نے بتایا ہے کہ معزول صالح کی فورسز نے دارالحکومت کے جنوب میں واقع علاقوں میں مزید مورچہ بندی کا سہارا لے لیا ہے۔

مذکورہ ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ حوثی ملیشیا صنعاء کی سڑکوں محلّوں اور اس کے داخلی راستوں کے علاوہ شمالی اور مغربی اطراف میں واقع پہاڑوں میں عسکری اور سکیورٹی حوالے سے مزید چوکنّا ہو گئی ہے۔