.

یورپ میں 50 ہزار شدت پسند ، اکثریت برطانیہ میں ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایک یورپی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ یورپ کی سرزمین پر اس وقت 50 ہزار شدت پسند موجود ہیں جن میں 70% اکیلے برطانیہ میں ہیں۔

یورپی یونین میں انسداد دہشت گردی کے امور کے اعلی رابطہ کار گیل ڈی کریشوف کی تیار کردہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یہ شدت پسند ممکنہ طور پر انتہائی خطرناک اہداف پر سائبر حملے کر سکتے ہیں۔

جدید اعداد و شمار کے مطابق مذکورہ انتہا پسندوں میں 3 ہزار ایسے ہیں جو برطانوی داخلہ انٹیلی جنس کے ادارے "ایم آئی 5" کے لیے تشویش کا باعث ہیں جب کہ 500 دیگر افراد کی مسلسل طور پر کڑی نگرانی جاری ہے۔

ادھر برطانوی حکومت کی جانب سے جاری کردہ دیگر معلومات کے مطابق 2013 سے اب تک 18 سازشوں کو ناکام بنایا جا چکا ہے جن میں 5 سازشوں کی منصوبہ بندی رواں برس مارچ میں ویسٹ منسٹر حملے کے بعد پکڑی گئی۔

خطرے کے حوالے سے برطانیہ کے بعد دوسرے نمبر پر فرانس ہے جہاں یورپی یونین کے بیان کے مطابق 17 ہزار شدت پسند بستے ہیں۔

البتہ فرانس کے پڑوس میں ہسپانیہ کی سرزمین پر پائے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد 5 ہزار ہے۔ بیلجیئم جہاں سے 500 افراد نے شام رخ کیا وہاں اب بھی ایک ہزار شدت پسند موجود ہیں۔

جہاں تک ان افراد کے سبب ممکنہ خطرات کا تعلق ہے تو رپورٹ میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ اس کی نوعیت روایتی حملوں سے کہیں زیادہ ہے۔ ساتھ ہی ممکنہ سائبر حملوں سے بھی خبردار کیا گیا ہے جو داعش تنظیم 5 برسوں کے اندر توانائی پیدا کرنے والے نیوکلیئر اسٹیشنوں یا فضائی نگرانی کے نظاموں کے خلاف کر سکتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق داعش تنظیم حساس نوعیت کے الکٹرونک نیٹ ورکس کو ہیک کرنے کے لیے معاوضے کے بدلے روس کے ہیکروں کی مدد حاصل کر سکتی ہے۔