.

میزائل پروگرام سے پیچھے نہیں ہٹیں گے: ایرانی وزیر دفاع

ایران کا اپنے تیار کردہ فضائی دفاعی نظام باور کا تجربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے وزیر دفاع جنرل امیر حاتمی کا کہنا ہے کہ ملک کے میزائل پروگرام اور اتحادیوں کو مستحکم کرنے کے لیے ان کو اسلحے کی برآمد ایران کی اولین ترجیح ہے۔ آیندہ چار سال کے دوران میں ایران کی بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی حربی صلاحیتوں میں اضافہ کیا جائے گا۔

وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور امریکا نے حال ہی میں ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کے خلاف نئی پابندیاں عاید کی ہیں۔

ایرانی نیوز ایجنسی کے مطابق حال ہی میں تعینات ہونے والے وزیر دفاع نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ 'جنگی اعتبار سے خصوصاً میزائل کے حوالے سے ہمارے پاس ایک خاص منصوبہ ہے جس کے ذریعے ایران کی میزائل کی طاقت کو بڑھانا ہے۔ اور جلد ہی ایران کی بیلسٹک اور کروز میزائل کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔' تاہم ایران کی نیوز ایجنسی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ کہاں اور کس موقعے پر تقریر کر رہے تھے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جنرل امیر کی تعیناتی سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ ایران اپنی فوج کے دو حصوں کو ملا رہا ہے یعنی ریگولر آرمی اور پاسداران انقلاب۔ اور ایران ایسا عراق اور شام میں اپنے کردار کے حوالے سے ایسا کر رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ 1979 کے کے انقلاب کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ وزیر دفاع پاسداران انقلاب سے نہیں بلکہ ریگولر آرمی سے تعینات ہوا ہے۔

جنرل امیر نے مزید کہا کہ ایران اسلحے کو برآمد کرنے پر غور کرے گا تاکہ 'جنگ اور مسلح تصادم کو روکا جا سکے'۔ انھوں نے کہا 'جب بھی کوئی ملک کمزور ہوتا ہے تو دوسروں کو موقع ملتا ہے کہ اس پر حملہ آور ہوں۔ جہاں بھی ضرورت ہوئی ہم اسلحہ برآمد کریں گے تاکہ خطے اور ملک کی سکیورٹی کو بہتر بنایا جا سکے اور جنگ کو روکا جا سکے۔'

ایران کا فضائی دفاعی نظام کا تجربہ

ادھر دوسری جانب ایران نے اپنے تیار کردہ فضائی دفاعی نظام کا تجربہ کیا ہے۔ اس نے یہ روس کے ایس 300 میزائل دفاعی نظام کے طرز پر تیار کیا ہے۔

سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی فضائی افواج کے سربراہ فرزاد اسماعیلی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ ’’ایس 300 نظام کی تنصیب کے ساتھ ساتھ باور 373 نظام کی تنصیب کا کام جاری ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ’’یہ نظام مکمل طور پر ایران میں تیار کیا گیا ہے اور اس کے بعض حصے ایس 300 سے مختلف ہیں۔اس کے تمام ذیلی نظام مکمل ہوچکے ہیں اور اس کے میزائل تجربات بھی کر لیے گئے ہیں‘‘۔

باور ایران کا پہلا طویل فاصلے کا میزائل دفاعی نظام ہے اور یہ مارچ 2018ء تک فعال ہو جائے گا۔ ایران نے 2010ء میں باور 373 کی تیاری کا کام شروع کیا تھا اور اس نے یہ فیصلہ بین الاقوامی پابندیوں کے نتیجے میں روس سے ایس 300 نظام کی خریداری معطل ہونے کے بعد کیا تھا۔

روس نے ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جولائی 2015ء میں تاریخی جوہری معاہدے کے بعد ایس 300 میزائل دفاعی نظام تہران کے حوالے کردیا تھا اور یہ تنصیب کے بعد اس سال مارچ میں فعال ہوگیا تھا۔