ترکی کو یورپی یونین میں شامل نہ کیا جائے: اینجیلا مرکل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمن چانسلر اینجیلا مرکل کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے مطالبہ کریں گی کہ ترکی کو اس اتحاد میں شامل کرنے سے متعلق مذاکرات کی بساط لپٹ دی جائے۔ انقرہ اور برلن کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں مرکل کا یہ بیان کافی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

ان خیالات کا اظہار جرمن چانسلر نے روان مہینے کے اواخر میں ہونے والے چانسلر شپ کے انتخاب میں اپنے سوشل ڈیموکریٹک حریف مارٹن شلز کے ساتھ ایک ٹی وی مذاکرتے میں کہی۔ اینجیلا مرکل کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگتا کہ ترکی کبھی یورپی یونین کا رکن بن سکے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ یورپی یونین کے رکن ملکوں سے بات کریں گی کہ آیا ہم انقرہ کی شمولیت سے متعلق مذاکرات کا سلسلہ ختم کر سکتے ہیں؟

جرمن چانسلر کا سخت بیان ترکی کی جانب سے سیاسی وجوہات کی بنا پر دو یا زائد جرمن شہریوں کی گرفتاری سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔

حالیہ گرفتاریوں کے بعد ترکی کی جانب سے گرفتار کئے جانے والے جرمن شہریوں کی تعداد 12ہو گئی ہے جبکہ نیٹو اتحاد میں شامل ان دو اہم ملکوں کے تعلقات انتہائی خراب ہیں۔

جرمنی کی دونوں بڑی جماعتوں ’سی ڈی یو‘ اور ’ایس پی ڈی‘ کے چانسلر شپ کے امیدوار نے ٹی وی مباحثے میں حصہ لیا۔ چاروں بڑے ملکی چینلز میرکل اور شلز کا یہ مباحثہ براہ راست نشر کیا، جسے اندازاً 15ملین افراد نے دیکھا۔

جرمنی کی قدامت پسند سیاسی جماعت کرسچن ڈیموکریٹک یونین (سی ڈی یُو) سے تعلق رکھنے والی انیجیلا مرکل چانسلر کے منصب کے لیے مسلسل چوتھی مرتبہ بھی امیدوار ہیں۔ رائے عامہ کے جائزوں میں اُن کی سیاسی جماعت کو واضح سبقت حاصل ہے اور یقینی امکان ہے کہ وہ 24 ستمبر کے پارلیمانی انتخابات میں واضح کامیابی حاصل کر لیں گی۔

تازہ ترین رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کی عوامی مقبولیت کا تناسب 22 فیصد سے زائد ہے جبکہ مرکل کی سیاسی جماعت کی پسندیدگی کا تناسب 37 فیصد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں