حج کی کامیابی سے سعودی عرب سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی: ایران

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران نے اس مرتبہ حج کے تمام امور بطریق احسن انجام پانے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے دونوں علاقائی حریفوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق حج تنظیم کے سربراہ علی غازی عسکر نے ایرانی عازمین کے لیے الگ سے نئی حکمت عملی اختیار کرنے پر سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ ممالک کے درمیان اختلافات پیدا ہوتے رہتے ہیں لیکن ان کے لیے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو ڈائیلاگ اور مذاکرات کے ذریعے طے کریں‘‘۔

انھوں نے کہا : ’’ اب حج کے کامیاب انعقاد کے بعد دونوں فریقوں کے لیے یہ ایک اچھا وقت ہے کہ وہ دوسرے شعبوں میں اپنے دوطرفہ امور کو طے کرنے کے لیے مذاکرات کریں‘‘۔

ان کے اس مثبت بیان کے باوجود وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے محتاط ردعمل کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک واضح تبدیلی کی تصویر کے منتظر ہیں۔

اس مرتبہ قریباً 86 ہزار ایرانیوں نے فریضہ ٔ حج کی سعادت حاصل کی ہے اور ایرانی حجاج نے بھی سعودی عرب کی جانب سے کیے گئے انتظامات پراطمینان کا اظہار کیا ہے۔ 2015ء میں منیٰ میں بھگدڑ کے افسوس ناک حادثے کے بعد ایرانی عازمین نے پہلی مرتبہ حج کا فریضہ ادا کیا ہے۔ گذشتہ سال ایران نے اپنے شہریوں کو حج کی اجازت نہیں دی تھی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے قبل ازیں یہ کہا تھا کہ اس سال کسی قسم کے ناخوش گوار واقعے سے پاک حج سے تہران اور الریاض کے درمیان دوسرے شعبوں میں بھی اعتماد کی فضا پیدا کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

اس مرتبہ ایران نے اپنے عازمین حج کو نیلے رنگ کے برقی شناختی نشان جاری کیے تھے تاکہ منتظمین ان کا سراغ لگا کر ان کی شناخت کرسکیں۔بعض ایرانی حجاج نے برطانوی خبررساں ایجنسی رائیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی حکام نے انھیں بہتر سہولتیں مہیا کی ہیں، انھیں ائیر کنڈیشند خیمے بھی مہیا کیے گئے تھے اور ان سے ہر لحاظ سے اچھا برتاؤ کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ان میں سے بعض ایرانی ماضی میں بھی حج کی سعادت حاصل کرچکے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں