دو دہائیوں سے حوثیوں کو ایران کیسے مدد فراہم کر رہا، جانئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے سابقہ بیانات میں یہ باور کرایا جا چکا ہے کہ حوثیوں کو سپورٹ کرنے والا ملک ایران کسی طور بھی یمن کے بحران کو حل کرنے کا حصہ نہیں بن سکتا کیوں کہ وہ خود "اس بحران کا سبب" ہے۔

یمن میں حوثیوں کے لیے ایرانی آشیرباد اور سپورٹ کا عرصہ دو دہائیوں سے زیادہ پر مشتمل ہے۔ حوثی تحریک بیرون ملک ایرانی رسوخ کے ایک دھڑے کی نمائندگی کرتی ہے۔ یمن میں زیدی نظریات سے دست برداری اور اثنا عشری عقائد کا پرچار درحقیقت ایران کے لیے راہ ہموار کرنے اور آگے چل کر یمن کا کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کے سلسلے میں تھا۔

بڑی تعداد میں اسلحے کو اسمگل کر کے اسے حوثیوں کے پاس جمع کیا گیا تا کہ ان کی شان مضبوط کی جا سکے۔ یہ کارروائی چھوٹے بحری جہازوں یا بحر احمر میں بعض افریقی ممالک کے راستے عمل میں آئی۔ بعد ازاں یہ کھیپ صعدہ میں حوثیوں کے گڑھ کے قریب میدی کی بندرگاہ بھجوا دی جاتی۔

اس طرح ایران نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ سے ملتا جلتا ایک عسکری ونگ قائم کیا۔ یمن میں ایرانی مداخلت ترقیاتی عوامل کی بنیاد پر نہیں تھی۔ اسی واسطے معزول صدر علی عبداللہ صالح اور حوثیوں کے درمیان جھڑپیں پھوٹ پڑیں جو کہ چھ جنگوں کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ حوثیوں نے سعودی سرحد پر چیک پوائنٹس کو نقصان پہنچایا اور اس دوران 1500 ہلاکتیں ہوئیں جس کے بعد فضائی بم باری اور توپوں کی گولہ باری کے نتیجے میں حوثی واپس صعدہ کی جانب لوٹ گئے۔

حوثیوں نے ستمبر 2014 میں دارالحکومت صنعاء پر مرحلہ وار قبضہ کرنا شروع کیا۔ اس دوران انہیں یمن میں بعض سکیورٹی فورسز کی سپورٹ بھی حاصل رہی۔ بعد ازاں انہوں نے معزول صالح کی جانب سے عسکری اور سکیورٹی سپورٹ کی مدد سے یمن کے بعض صوبوں پر قبضہ جما لیا۔

ایرانی قومی سلامتی کی سپریم کونسل کے سکریٹری جنرل علی شامخانی نے اشتعال انگیز بیانات میں کہا تھا کہ "ان کا ملک بحیرہ روم اور آبنائے باب المندب کے کناروں پر پہنچ چکا ہے اور ایران نے ہی بغداد اور دمشق کو شدت پسندوں کے ہاتھوں میں جانے سے روکا"۔

تاہم ان بیانات کا اثر زیادہ عرصے تک نہیں رہا اور عرب اتحاد کا آپریشن "عزم کی آندھی" شروع کر دیا گیا۔ اس آپریشن نے باب المندب کا کنٹرول سنبھالنے اور جزیرہ عرب کے قریب آنے کا ایرانی خواب چکنا چور کر ڈالا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں