میانمر: سوا لاکھ روہنگیا مسلمان بے گھر، آنگ سان پر عالمی دباؤ میں اضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

میانمر کی لیڈر اور وزیر خارجہ آنگ سان سوچی (سو کائی) پر روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ریاستی تشدد کے استعمال کے بعد دباؤ میں اضافہ ہوگیا ہے۔میانمر کی ریاست راکھین سے گذشتہ گیارہ روز کے دوران میں سوا لاکھ سےزیادہ روہنگیا مسلمان جانیں بچا کر پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی جانب ہجرت کر گئے ہیں۔

تین مسلم اکثریتی ممالک انڈونیشیا ، بنگلہ دیش اور پاکستان خاص طور پر آنگ سان پر دباؤ ڈال رہے ہیں اور وہ ان سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمر کی سکیورٹی فورسز اور انتہا پسند بدھ متوں کے تشدد آمیز مظالم بند کرانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

انڈویشی وزیر خارجہ رتنو مرسودی نے سوموار کے روز نوبل امن انعام یافتہ آنگ سان اور میانمر آرمی کے سربراہ مِن آنگ لینگ سے ملاقات کی تھی اور ان سے خون ریزی رکوانے کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے میانمر کے دارالحکومت نے پائیڈا ( نے پائیٹا) میں ملاقات کے بعد ایک بیان میں کہا کہ ’’ سکیورٹی حکام کو فوری طور پر ہر قسم کے تشدد کا خاتمہ کرنا چاہیے اور متاثرین کو مختصر اور طویل مدت کے لیے انسانی اور ترقیاتی امدا د مہیا کرنی چاہیے‘‘۔

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے بھی رو ہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد پر شدیدغم وغصے کا اظہار کیا ہے۔انھوں نے اسلامی تعاون تنطیم پر زور دیا ہے کہ وہ روہنگیا مسلمانوں کے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے ٹھوس اور موثر اقدامات کرے۔

پاکستان سے تعلق رکھنے والے دنیا کی سب سے کم عمر نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے آنگ سان سوچی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ روہنگیا اقلیت کے خلاف شرم ناک سلوک کی مذمت کریں۔انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا کہ دنیا ابھی تک برمی لیڈر سے اس معاملے پر کچھ سننے کی منتظر ہے۔

میانمر کی مغربی ریاست راکھین میں 25 اگست کو تشدد کا نیا سلسلہ شروع ہوا تھا اور اس کے بعد سے گذشتہ گیارہ روز میں ایک لاکھ پچیس ہزار کے لگ بھگ افراد سرحد عبور کر کے بنگلہ دیش کے سرحدی علاقے میں داخل ہوچکے ہیں۔ امدادی کارکنان کا کہنا ہے کہ راکھین سے تشدد سے بچ کر آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور بنگلہ دیش میں مہاجرین کے لیے قائم کیمپ بھر گئے ہیں اور ان میں مزید افراد کے سمانے کی گنجائش نہیں رہی ہے۔

میانمر میں مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کا یہ نیا سلسلہ مبینہ طور پر روہنگیا مزاحمت کاروں کے اپنے دفاع میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی چوکیوں پر حملوں کے بعد شروع ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنی نسلی اقلیت کے خلاف پرتشدد مظالم کو رکوانے کے لیے یہ حملے کررہے ہیں لیکن اس کے رد عمل میں میانمر کی سکیورٹی فورسز نے ایک بڑی کارروائی شروع کردی تھی اور ا س کے بہ قول اس کا مقصد مزاحمت کاروں کی تطہیر تھا۔

بنگلہ دیش پہنچنے والے مہاجرین نے بتایا ہے کہ ان کے مکانوں کو بموں سے اڑایا جارہا ہے اور روہنگیا وہاں زندہ دفن ہورہے ہیں۔میانمر کے سکیورٹی حکام اور روہنگیا مزاحمت کار دونوں ایک دوسرے پر تشدد کو ہوا دینے کے الزامات عاید کررہے ہیں۔فوج نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ لڑائی میں چار سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں اور ان میں زیادہ تر مزاحمت کار تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں