الجزائری اپوزیشن کا فوج سے زمام اقتدار ہاتھ میں لینے کا مطالبہ

’صدر بوتفلیقہ بیماری اور بڑھاپے کے باعث عضو معطل‘

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی عرب ملک الجزائر کے سیاسی حلقوں میں صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کی خرابی صحت اور مسلسل منظر سے غائب رہنے کے باعث صدارتی انتخابات کے لیے بحث جاری ہے۔ حکومتی حلقوں نے کہا ہے کہ صدر بوتفلیقہ تندرست ہیں اور قبل از وقت انتخابات کی ضرورت نہیں، جب کہ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ صدر ایک عرصے سے غایب ہیں۔ اس لیے ملک میں سیاسی خلاء پایا جا رہا ہے، اس خلاء کو پر کرنے کے لیے اپوزیشن نے فوج کو اقتدار ہاتھ میں لے کر نئے صدارتی انتخابات کرانے پر زور دیا ہے۔

العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق الجزائر کی مختلف سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ سے آئین کی دفعہ 102 پر عمل درآمد کرنے پر زور دیا ہے۔ آئین کے اس آرٹیکل میں پارلیمنٹ کو صدر کی خطرناک بیماری کے سبب انہیں ذمہ داریوں کی انجام دہی سے روکنے کا اختیار ہے۔

دوسری جانب پارلیمنٹ کے اسپیکر نے اپوزیشن کی جانب سے فوج کی مداخلت کے مطالبے کو مسترد کردیا ہے۔ اسپیکر السعید بوحجہ کا کہنا ہے کہ قبل از وقت صدارتی انتخابات کا مطالبہ سیاسی اخلاقیات اور دستوری طریقہ کار سے انحراف کے مترادف ہے۔ حکمراں جماعت نیشنل فریڈم فرنٹ کے چیئرمین کا کہنا ہے کہ صدر کی بیماری پر توجہ مرکوز کرنے کی کوئی ضرورت نہیں کیوں کہ وہ صحت مند ہیں۔

الجزائر کی سیاسی جماعتوں نے رواں ہفتے فوج سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ مسلسل بیمار رہنے والے صدر عبدالعزیز بوتفلیقہ کو سبکدوش کرنے اور ملک میں قبل از وقت انتخابات کے لیے مداخلت کرے تاہم مسلح افواج کے سربراہ کی طرف سے فوری طور پر اس کا رد عمل سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ فوج دستور کو معطل نہیں کرے گی۔ اپوزیشن جماعتیں اور ان کی حامی سوشل میڈیا پر بھی پارلیمنٹ کو آئین کی دفعہ 102 پر عمل درآمد کرتے ہوئے صدر کو سبکدوش کرنے کی حمایت میں مہم چلا رہی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں