ترکی: پولیس تھانے کے نزدیک داعش کا خودکش بمبار ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکی کے ساحلی شہر مرسین میں پولیس نے داعش کے ایک مبینہ خودکش بمبار کو خود کو اڑانے سے قبل ہی ہلاک کردیا ہے۔ترک وزارت داخلہ کے مطابق یہ خودکش بمبار ایک پولیس اسٹیشن پر حملہ کرنا چاہتا تھا۔

حملہ آورنے بارود سے بھری جیکٹ پہن رکھی تھی اور اس کو پولیس اہلکاروں نے مرسین کے علاقے اینی سحر میں واقع پولیس اسٹیشن کے باہر گولی مار کر ہلاک کردیا ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ پولیس اسٹیشن ترکی کی قومی انٹیلی جنس ایجنسی ایم آئی ٹی کے علاقائی دفاتر کے نزدیک واقع ہے۔

مرسین کے گورنر کے دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش کا یہ حملہ آور مشکوک حرکات کررہا تھا اور پولیس اہلکاروں نے تھانے سے پچاس میٹر دور اس کو رکنے کا اشارہ کیا تو وہ اس کے باوجود مسلسل چلتا رہا۔اس کے کندھے سے ایک تار لٹک رہا تھا جب اس نے اس کی جانب ہاتھ بڑھانے کی کوشش کی تو اس کو گولی مار دی گئی ۔

ترکی کی خبررساں ایجنسی دوغان نے اس مشتبہ حملہ آور کی شناخت ایک شامی شہری کے طور پر کی ہے۔اس کی عمر بیس سال تھی اور وہ پولیس تھانے کے نزدیک واقع ایک اپارٹمنٹ بلاک میں رہ رہا تھا۔بم ڈسپوزل ماہرین نے دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا ہے۔

پولیس نے بعد میں اس شامی بمبار کے مکان کی تلاشی لی ہے اور اس کے والد کو گرفتار کر لیا ہے۔دوغان کے مطابق اس کا خاندان ایک سال قبل مرسین میں منتقل ہوا تھا۔

واضح رہے کہ داعش کے جنگجو ماضی میں ترکی میں متعدد بم حملے کرچکے ہیں ۔ مغربی ممالک سے آنے والے داعش کے جنگجو ترک شہروں کے ذریعے ہی شام اور عراق کی جانب جاتے رہے ہیں۔ترک حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے حالیہ برسوں کے دوران میں داعش کے پانچ ہزار سے زیادہ مشتبہ ارکان کو گرفتار کیا ہے اور دنیا کے پچانوے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 3290 غیرملکی جنگجوؤں کو بے دخل کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں