حوثیوں کا سابق صدر سے 12 مطالبات پر عمل درآمد کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کے خلاف برسر جنگ ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کی قائم کردہ سپریم انقلابی کونسل کے چیئرمین نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے زیرتسلط ریاستی اداروں میں بڑے پیمانے پر خرابیاں موجود ہیں۔ باغیوں کی سپریم کونسل کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے بیان کے رد عمل میں کہا ہے کہ اداروں میں موجود خامیوں اور خرابیوں کو دور کرنا ہوگا۔

خیال رہے کہ مںحرف سابق صدر علی صالح نے بھی باغیوں کے زیرتسلط اداروں میں موجود خرابیوں کی نشاندہی کی تھی جس پر علی صالح اور حوثی گروپ کے درمیان اختلافات پیدا ہوگئے تھے۔

دریں اثناء حوثی ملیشیا کے ترجمان محمد عبدالسلام نے حوثی گروپ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کی طرف سے پیش کردہ 12 نکاتی مطالبات پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ ان بارہ نکات میں ایمرجنسی قانون کو فعال کرنا، اداروں میں تطہیر اور فوج میں نئی بھرتیوں کا باب کھولنا شامل ہیں۔

قبل ازیں علی صالح نے حوثیوں کے ساتھ اختلافات کے خبروں کی تردید کی تھی۔

علی صالح اور حوثیوں کے درمیان رسا کشی چند ہفتے قبل شروع ہوئی تھی۔ حکومت کے خلاف بغاوت میں متحد حوثیوں اور علی صالح کے درمیان کشیدگی کی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں اہم وجہ صنعاء میں امن وامان کی صورت حال اور باغیوں کے زیرتسلط ریاستی اداروں کو چلانے کے طریقہ کار میں اختلافات اہم اسباب ہیں۔

اب حوثیوں کی قائم کردہ سپریم کونسل کے چیئرمین محمد علی الحوثی نے بھی باغیوں کے زیرانتظام اداروں میں موجود خرابیوں کا برملا اعتراف کرتے ہوئے ان خرابیوں کو دور کرنے کے لیے ماہرین اور حکماء کونسل کو فعال بنانے پر زور دیا ہے۔

علی عبداللہ صالح نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں حوثی باغیوں کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے پر زور دینے کے ساتھ ان کے حوالے سے نرم لب ولہجہ اختیار کیا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ مںحرف سابق صدر صنعاء میں اپنے وفاداروں اور حوثیوں کے درمیان پائی جانے والی عسکری اور سیکیورٹی کشیدگی کو کم کرنا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں