شام میں ترکی، روس اور ایران اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ آلاپ رہے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی مجلے فارن پالیسی میں شائع ہونے والی ایک نئی رپورٹ میں روس، ترکی اور ایران کے درمیان بدلتے تعلقات کو شام کی جنگ کے منظر نامے میں سب سے حیرت انگیز پہلو قرار دیا ہے۔

میگزین کے مطابق ماسکو اور انقرہ کے درمیان قربت اور دوستی کو دونوں بڑی طاقتوں کے درمیان دیرینہ عداوت کے بعد تعلقات کی تاریخ میں بہترین پیش رفت شمار کیا جا رہا ہے۔

جہاں تک انقرہ اور تہران کی بات ہے تو ڈیڑھ سو برس سے زیادہ عرصے تک عداوت کے بعد اب دونوں کے درمیان تعلق مستحکم ہو گیا ہے تاہم اس میں متبادل انتباہ اور شک کا عنصر شامل ہے۔

فارن پالیسی میں شائع رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ شامی بحران کے حل کے واسطے تینوں ملکوں کے مل کر کام کرنے کے پیچھے محض ظاہری متبادل دوستی محرّک نہیں بلکہ ان تینوں ملکوں کا امریکی موقف کی کمزوری کو مشترکہ طور پر جان لینا ہے۔

اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کے زیر قیادت نئی انتظامیہ پچھلی انتظامیہ سے زیادہ شام میں سرگرم ہے۔ ان سرگرمیوں میں اپنے کرد حلیفوں کو ہتھیار اور فوجی سامان کی فراہمی اور الشعیرات کے ہوائی اڈے پر بم باری کے ذریعے واشنگٹن کی بشار حکومت کے خلاف کاری ضرب شامل ہے۔

شام میں ترکی، روس اور ایران کے مفادات وسیع پیمانے پر متصادم ہیں۔ روس نے اپنے فوجی اڈوں کے حوالے سے طویل المدت معاہدے طے کر لیے ہیں۔ ایران کے شام میں بشار حکومت کے ساتھ گہرے مفادات ہیں۔ رہ گیا ترکی تو اس کو اس نئے کھیل میں داخل ہونے کے سبب نیٹو اور یورپی یونین کے ساتھ تعلقات کے بگاڑ کا سامنا ہے۔

امریکی مجلے کے نزدیک یہ تمام تر تعلقات جو اپنی بہترین حالت میں نظر آ رہے ہیں.. مفادات میں عدم مطابقت کی وجہ سے لا محدود طور پر جاری نہیں رہ سکیں گے اور ان کا انجام مستقبل میں امریکی مواقف کے مرہونِ منت ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں