سعودی عرب کی تعریف کرنے والے قطری حاجی کو کس نے تشدد کا نشانہ بنایا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوشل میڈیا کے ذریعے ایک قطری حاجی کی ایک ایسی ویڈیو پھیلائی گئی ہے جس میں مبینہ طور پر سعودی اس کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں اور اس کی توہین کررہے ہیں لیکن اس ویڈیو کی حقیقت کا پول کھل گیا ہے اور یہ دوحہ نے سعودی عرب کے خلاف اپنی مذموم مہم کے حصے کے طور پر فلمائی ہے۔ویڈیو میں اس قطر ی شہری پر سعودی نہیں بلکہ اس کے ہم وطن قطری حکام ہی حج کرنے کی پاداش میں تشدد کررہے ہیں۔

اس ویڈیو کے منظرعام پر آنے کے بعد اس میں تشدد کا نشانہ بننے والے قطری شہری کے بھائی نے اصل حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے۔جابر المری نے بتایا ہے کہ اس کے بھائی کو سعودی عرب میں فریضہ حج کی ادائی کے بعد واپسی پر دوحہ کی وزارت داخلہ کے حکام نے گرفتار کر لیا تھا لیکن اس کے بیوی اور بچوں کو چھوڑ دیا تھا۔

بدھ کی شام یوٹیوب پر اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو میں نظر آنے والے قطری حاجی کی حمد المری کے نام سے شناخت کی گئی ہے۔اس کو ایک شخص تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے ۔قطریوں نے تشدد کرنے والے شخص کے بارے میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ سعودی شہری ہے۔ ویڈیو سے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ حمد پر حج سیزن کے دوران میں ایک صحرائی علاقے میں حملہ کیا گیا تھا۔

یہ قطری شہر ی گذشتہ ہفتے حج کےلیے سعودی عرب میں پہنچنے کے بعد ایک سعودی ٹیلی ویژن پر نمودار ہوا تھا۔وہ سعودی عرب کی جانب سے حجاج کرام کو مہیا کی جانے والی خدمات اور سہولتوں کی تعریف کررہا تھا اور اس نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور دوسرے سعودی حکام کی تعریف کی تھی ۔مبینہ حملہ آور نے ویڈیو میں اس قطری حاجی کے ہاتھ پشت پر باندھے ہوئے ہیں اور وہ اس پر دشنام طرازی کررہا ہے۔

جابر بن ال کحلہ المری نے قبل ازیں یہ کہا کہ وہ اپنے بھائی حمد سے گفتگو کے بعد جمعرات کو ٹویٹر پر ایک ویڈیو جاری کررہے ہیں اور اس میں وہ اپنے بھائی سے ناروا سلوک کی تمام تفصیل بیان کریں گے۔قطرکی وزارت داخلہ نے اب ان کے بھائی کو رہا کردیا ہے۔

انھوں نے بدھ کو ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ انھیں بھائی کے اتا پتا کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔البتہ یہ معلوم ہے کہ اس کو قطر کی وزارت داخلہ نے حج کے دوران میں دوحہ حکومت پر تنقید کی پاداش میں گرفتار کیا ہے۔

اس سے پہلے ایک اور ٹویٹ میں جابر نے یہ اطلاع دی تھی کہ ان کے بھائی حمد المری کو سعودی عرب سے زمینی راستے کے ذریعے ملک میں داخل ہونے کے فوری بعد قطری حکام نے اغوا کر لیا تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ قطری عازمین حج کی میزبانی پر سعودی عرب کی تعریف کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔

جابر نے جمعرات کی صبح اس امر کی بھی تصدیق کی ہے کہ قطری حکومت نے انتقام کے طور پر المری قبیلے کی الغفرانی شاخ سے تعلق رکھنے والے افراد کی شہریت منسوخ کردی ہے ۔جابر اور الحمد دونوں اسی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔جابر کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے خاندان کی متعدد جائیدادیں ضبط کر لی ہیں اور کم سے کم چھے ہزار افراد کو بے گھر کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں