.

یمن کی قومی املاک بیرون ملک فروخت کیے جانے کا انکشاف

حوثیوں اور علی صالح کی خطرناک سازش بے نقاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کی آئینی حکومت نے ایران نواز حوثی باغیوں اورمںحرف سابق صدرعلی عبداللہ صالح کی ایک نئی سازش بے نقاب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ باغی بیرون ملک موجود قومی املاک کو اونے پونے داموں فروخت کررہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمنی حکومت کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ صنعاء میں وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر سے بیرون ملک سفارت خانوں کی اہم دستاویزات ملی ہیں۔ ان املاک پر یمنی باغیوں نے قبضہ جما رکھا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ باغیوں کے قائم کردہ نام نہاد وزیر خارجہ ھشام شرف نے ان املاک پر قبضے میں حوثیوں کی مدد کی۔ بیرون ملک یمنی سفارت خانوں میں موجود املاک کو ایرانی، لبنانی اور دوسرے غیر ملکی کاروباری ایجنٹوں کے ہاتھ اونے پونے فروخت کیے جانے کے شواہد ملے ہیں۔

یمنی حکومت نے متعلقہ ممالک بالخصوص برطانیہ کو مخاطب کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ وہ مملکت میں قائم یمنی قونصل خانوں کی املاک اور دوسری سرکاری املاک کے تصرفات میں احتیاط کرے کیونکہ حوثی غیرقانونی حکومت کی آڑ میں قومی املاک کو اپنے مادی فواید کے لیے فروخت کررہی ہے۔

یمنی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت بیرون ملک موجود قومی املاک کو نقصان پہنچانے کی کسی کو اجازت نہیں دی جائے گی۔

وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ بیرون ملک موجود قومی املاک کو فروخت کرنے والے عناصر کے خلاف عدالتوں میں مقدمات دائر کیے جائیں گے اوران کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

خیال رہے کہ حال ہی میں برطانیہ میں متعین یمنی سفیر ڈاکٹر یاسین سعید نمان نے انکشاف کیا تھا ک حوثی ملیشیا لندن میں موجود سرکاری املاک کو فروخت کرنے کی سازشیں کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حوثی اپنا سفارتی اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے برطانیہ میں موجود قومی املاک پر قبضے کے لیے کوشاں ہیں تاکہ انہیں اونے پونے بیچ کر منافع حاصل کیا جاسکے۔