.

سیف الاسلام کی رکن پارلیمان کے خلاف قانونی جنگ کا آغاز

ابو بکر بعیرہ کے خلاف اعلیٰ عدالت میں دعویٰ دائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے سابق مرد آہن مقتول معمر قذافی کے صاحبزادے سیف الاسلام القذافی ایک سرکردہ رکن پارلیمان کی جانب سے عاید کردہ الزامات کے بعد ان کے خلاف اعلیٰ عدالت میں جا پہنچے اور مقدمہ دائر کردیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق طرابلس کی سپریم جوڈیشل کونسل اور پبلک پراسیکیوٹر نے سیف الاسلام قذافی کی طرف سے رکن پارلیمنٹ ابو بکر بعیرہ کے خلاف دی گئی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرلیا ہے۔

سیف الاسلام قذافی نے اپنے وکیل خالد الزایدی کے توسط سے دی گئی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ رکن پارلیمنٹ ابو بکر بعیرہ نے ان کی ساکھ مجروح کرنے کے لیے ان کے خلاف جھوٹ بولا، ان کی بدنامی کی کوشش کی اور لندن یونیورسٹی سے حاصل کردہ ان کی ڈاکٹریٹ کی ڈگری کو جعلی ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔

سیف الاسلام کے وکیل کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کی طرف سے دی گئی درخواست کی پہلی سماعت طبرق میں قائم عدالت میں 16 اکتوبر کو ہوگی۔ اس موقع پر عدالت ملزم کو بھی طلب کرے گی جنہوں نے سیف الاسلام کی تعلیمی قابلیت کو چیلنج کررکھا ہے۔

خیال رہے کہ لیبیا کی پارلیمنٹ کے رکن ابو بکر بعیرہ نے مارچ 2011ء کو برطانوی اخبار ’انڈیپنڈنٹ‘ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ سیف الاسلام نے جامعہ لندن میں پی ایچ ڈی کی تعلیم کے مقالے کی تیاری کا کام بن غازی کی قانو یونس یونیورسٹی کے اساتذہ سے کروایا تھا، اس کے علاوہ جرمنی سے تعلیم یافتہ اکنامک کے استاد ڈاکذٹر مینسی نے بھی سیف الاسلام کی مدد کی تھی جس کے بعد وہ لندن اکنامک کالج سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے قابل ہوئے تھے۔

مبصرین کا خیال رہے کہ جیل سے رہائی کے بعد سیف الاسلام روپوش ہیں۔ تاہم ان کا کسی رکن پارلیمنٹ کے خلاف عدالت سے رجوع خود کو منظر عام پر لانے کی کوشش بھی ہوسکتی ہے۔