.

شمالی کوریا اس مقام تک نہیں پہنچا جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عالمی سلامتی کونسل نے پیر کے روز متفقہ طور پر شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کی قرارداد منظور کر لی۔ یہ پیش رفت شمالی کوریا کی جانب سے چھٹا اور اب تک کا سب سے بڑا نیوکلیئر تجربہ کرنے کے بعد سامنے آئی ہے۔

امریکا کی جانب سے تیار کی گئی قرارداد کو چین اور روس سمیت تمام 15 ارکان کے ووٹوں سے منظور کر لیا گیا۔ اس قرارداد کے تحت شمالی کوریا کی ٹیکسٹائل برآمدات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے اور اس کی تیل کی درآمد کو روک لگا کر محدود کر دیا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی واپسی اب بھی ممکن ہے : نکی ہیلی

ادھر اقوام متحدہ میں امریکی خاتون مندوب نِکی ہیلی کا کہنا ہے کہ امریکا کسی طور بھی شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کی کوشش نہیں کر رہا ہے۔ ہیلی کے مطابق "پیونگ یانگ نے ابھی تک اس مقام سے تجاوز نہیں کیا ہے جہاں سے پلٹنا ممکن نہ ہو"۔

شمالی کوریا پر نئی پابندیوں کی قرارداد منظور ہونے کے بعد امریکی مندوب نے سلامتی کونسل سے کہا کہ "اگر شمالی کوریا اپنے جوہری پروگرام کو روک دینے پر آمادہ ہو جاتا ہے تو وہ اپنا مستقبل بحال کر سکتا ہے۔ اگر وہ ثابت کر دے کہ امن سے رہ سکتا ہے تو پھر دنیا بھی اس کے ساتھ امن کے ساتھ رہے گی"۔

نکی ہیلی نے باور کرایا کہ " آج کی قرارداد کا منظور ہونا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان استوار ہونے والے مضبوط تعلق کے مرہونِ منت ہے"۔