.

’یمنی باغی ہٹ دھرمی ترک کرکے امن مساعی میں مدد کریں‘

یمن کی صورت حال مبہم اور غیر واضح ہے: برطانوی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تعینات برطانوی سفیر نے کہا ہے کہ یمن کے بحران کا حل صرف بات چیت میں مضمر ہے۔ اس مسئلے کو فوجی طاقت سے حل نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے یمنی باغیوں پر زور دیا ہے کہ وہ ہٹ دھرمی ترک کرتے ہوئے بات چیت کی میز پر آئیں اور اقوام متحدہ کے امن مندوب ولد الشیخ احمد کے امن مشن میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔

العربیہ کے مطابق برطانوی سفیر سائمن شیر کلف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ یمن کی موجودہ صورت حال مبہم اور غیر واضح ہے۔ یہ مسئلہ صرف بات چیت سے حل ہوسکتا ہے۔ لہٰذا میں تمام متحارب فریقین سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ لڑائی بند کرکے اختلافات کو مذاکرات کی میز پرحل کریں اور الحدیدہ بندرگاہ کو اقوام متحدہ کی زیرنگرانی دینے کی تجویز قبول کریں۔

مسٹر شیر کلف نے کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ کا کنٹرول اقوام متحدہ کے حوالے کرنے سے یمن میں جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہوگی۔ العربیہ کے نامہ نگار کے مطابق صنعاء میں قائم ایران نواز حوثی گروپ کی غیرآئینی انتظامیہ اس وقت سخت عالمی دباؤ میں ہے۔

برطانوی سفیر نے بھی باغیوں پر ہٹ دھرمی ترک کرکے پرامن بات چیت کا آغاز کرنے پر زور دیا ہے، تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ صنعاء میں حوثی اور علی صالح بھی آپس میں ایک دوسرے سے الجھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر علی صالح ملیشیا اور حوثیوں نے ایک دوسرے کے خلاف حملے شروع کردیے تو اس کے نتیجے میں حالات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ اس لیے صورت حال کو مزید ابتر ہونے سے پہلے فریقین امن اقدامات کریں تاکہ کسی بڑے بحران سے بچا جاسکے۔

سائمن شیر کلف نے حوثیوں پر زور دیا کہ وہ اقوام متحدہ کے یمن کے لیے خصوصی ایلچی ولد الشیخ احمد کے مشن میں ان کے ساتھ تعاون کریں۔ مذاکرات کی میز پرآئیں اور بات چیت کے ذریعے تمام تنازعات حل کریں۔

انہوں نے یمن میں موجودہ انسانی بحران کی ذمہ داری یمنی باغیوں پر عاید کی اور کہا کہ الحدیدہ بندرگاہ کو کو اقوام متحدہ کے کنٹرول میں دینے سے جنگ اور انسانی بحران کے خاتمے کے راہ ہموار ہوگی۔