ایران میں ہزاروں قیدیوں کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور اقوام متحدہ کے ہائی کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک مشترکہ بیان میں سنہ 1988ء میں ہزاروں ایرانی قیدیوں اور سیاسی کارکنوں کو ماورائے عدالت قتل کئے جانے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے یہ مطالبہ 11 ستمبر سے جنیوا میں جاری انسانی حقوق کونسل کے اجلاس کے موقع پر سامنے آیا ہے۔ اجلاس 29 ستمبر تک جاری رہے گا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق ہائی کمشنر زید رعد الحسین کا کہنا ہے کہ ایران میں سنہ 1988ء میں سیاسی قیدیوں کی ماورائے عدالت پھانسیوں کی جامع تحقیقات کے لیے ایک کمیٹی نے کام شروع کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران میں سیاسی کارکنوں کا قتل عام روکنے کے لیے تہران حکومت کو عالمی اداروں کے مطالبات کا پابند بنانا ہوگا۔ خاص طور پر اقوام متحدہ کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات میں ایران سے اس بارے میں باز پرس کرنا ہوگی۔

ایران میں سنہ 80ء کے عشرے میں قیدیوں کو دی جانی والی اندھا دھند پھانسیوں کی تحقیقات کے مطالبے کی پٹیشن پر’اڈمونڈ رائیس آرگنائزیشن سینٹر‘ ، خواتین ہیومن رائٹئس انٹرنیشنل لیگ، بین الاقوامی آرگنائزیشن برائے فروغ تعلیم اور دیگر تنظیمیں شامل ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران نے جولائی سے اکتوبر 1988ء کے چند ہفتوں کے دوران جیلوں میں ڈالے گئے ہزاروں قیدیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔

بیان کے مطابق قیدیوں کو اجتماعی طور پر موت کے گھاٹ اتارے جانے کا حکم ایرانی انقلاب کے بانی آیت اللہ علی خمینی کی جانب سے دیا گیا جس پر مجاھدین خلق سمیت اپوزیشن کی تمام نمائندہ تنظیموں نے شدید احتجاج کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں