بارسلونا میں راہ گیروں کو وین سے روندنے والے مراکشی کی نئی وڈیو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گزشتہ ماہ ہسپانیہ کے شہر بارسلونا میں وین کے ذریعے لوگوں کو رونڈ ڈالنے کے واقعے سے متعلق ایک نئی وڈیو سامنے آئی ہے۔ 17 اگست کو Las Ramblas کے تجارتی اور سیاحتی علاقے میں مراکشی نژاد حملہ آور نے گاڑی کے ذریعے سڑک پر چلنے والوں اور فٹ پاتھ پر بیٹھے ہوئے افراد کو روند ڈالا تھا۔ واقعے میں 14 افراد ہلاک اور 130 زخمی بھی ہوئے تھے۔ کارروائی کی ذمے داری داعش تنظیم نے قبول کی۔

یہ وڈیو ہسپانیہ کے ٹی وی چینلAntena 3 نے منگل کی شب نشر کی۔ وڈیو میں 42 سیکنڈ بعد ایک نوجوان دیگر افراد کے ساتھ جائے حادثہ سے ملحق بازار La Boquria سے نکلتا ہوا نظر آ رہا ہے۔ وڈیو بنانے والی خاتون نے اس نوجوان سے پوچھا "کیا تم کو معلوم ہے کہ کیا ہو رہا ہے"؟ اس نے جواب دیا " مجھے نہیں معلوم کیا ہو رہا ہے".. اس کے بعد وہ چلا گیا اور پھر نظر نہیں آیا۔

وڈیو میں نظر آنے والا یہ نوجوان اسی وین کا چلانے والا ڈرائیور یونس ابو یعقوب ہے جس نے لوگوں کو بے دردی کے ساتھ روندا۔ البتہ واقعے کے 4 روز بعد ہسپانوی پولیس نے بارسلونا سے 50 کلومیٹر دور قصبےSubirats سے یونس کو ڈھونڈ نکالا۔ پولیس نے انگور کے ایک باغ میں یونس کا محاصرہ کر لیا جس نے اپنی کمر پر بارودی بیلٹ باندھی ہوئی تھی۔ کچھ دیر جاری رہنے والے فائرنگ کے تبادلے میں 22 سالہ یونس کو ہلاک کر دیا گیا۔

وین میں موجودگی کے وقت یونس نے فلالین کی جرسی پر قمیص پہن رکھی تھی جس کو اس نے اتار دیا۔ وہ گاڑی سے اترا اور بازار میں بدحواسی کے عالم میں دوڑتے سیکڑوں افراد میں شامل ہو کر فرار ہو گیا۔

ہسپانوی پولیس نے 5 دیگر مراکشی نوجوانوں کو بھی ہلاک کر دیا جنہوں نے اسی روز اوڈی گاڑی کے ذریعے کیمبرلز شہر میں لوگوں کو روندنے کی کارروائی کی تھی۔ واقعے میں دو افراد ہلاک اور 5 زخمی ہو گئے تھے۔ ان میں ایک پولیس افسر بھی شامل ہے۔

علاوہ ازیں پولیس نے دونوں کارروائیوں سے تعلق کے شبہے میں 4 افراد کو حراست میں لیا۔ اس دوران بارسلونا کے نزدیک ایک گھر میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں ایک مسجد کا مراکشی امام عبدالباقی ساتی مارا گیا۔ اس پر الزام ہے کہ وہ 12 افراد پر مشتمل دہشت گرد سیل کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ مذکورہ دھماکے میں عبدالباقی کے ساتھ ایک اور شخص بھی ہلاک ہوا جس کے بارے میں سمجھا جا رہا ہے کہ وہ بھی اسی سیل سے تعلق رکھتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں