روہنگیا کا بحران، آنگ سوچی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

میانمار کی وزیر خارجہ اور قومی لیڈر آنگ سان سوچی نے سکیورٹی فورسز کی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کے بعد پیدا شدہ بحران سے نمٹنے کے لیے اس مرتبہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

برمی سکیورٹی فورسز کی مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کے نتیجے میں تین لاکھ ستر ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہوچکے ہیں اور وہ ہجرت کرکے پڑوسی ملک بنگلہ دیش میں چلے گئے ہیں جہاں وہ مہاجر کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔

آنگ سان سوچی سے دنیا کے ممالک اور انسانی حقوق کی تنظیمیں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف فوج اور بدھ مت انتہا پسندوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کو رکوانے کا مطالبہ کررہے ہیں لیکن وہ اب تک اس بحران کے خلاف بول کے نہیں دی ہیں اور اگر انھوں نے لب کشائی کی ہے تو سکیورٹی فورسز کے حق ہی میں کی ہے اور انھیں حق بہ جانب ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جس کی بنا پر ان سے نوبل امن انعام واپس لینے کے مطالبات کیے جارہے ہیں۔

یادرہے کہ انھوں نے گذشتہ سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب میں اپنی حکومت کی بحران کے حل کے لیے کوششوں اور مسلم اقلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کا دفاع کیا تھا لیکن اس مرتبہ ان کے ترجمان آنگ شین کے بہ قول وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گی۔

میانمار پر مغربی ریاست راکھین میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھتا جارہا ہے کیونکہ انسانی حقوق کے گروپ اور مہاجرین راکھین میں تشدد کے واقعات سے متعلق بڑی خوف ناک اور حکومت سے مختلف تصویر پیش کررہے ہیں ۔

ان کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ریاست کے شمال میں واقع روہنگیا مسلمانوں کے دیہات کے دیہات نذرآتش کردیے ہیں۔نسل پرست راکھین بدھ مت بھی اس کام میں ان کا ہاتھ بٹا رہے ہیں اور اب تک تشدد کی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جاچکے ہیں۔

تاہم میانمار کے حکام ان حقائق کو تسلیم کرنے سے انکاری ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ سکیورٹی فورسز یا بدھ مت شہری روہنگیا مسلمانوں کے مکانوں کو نذرآتش نہیں کررہے ہیں۔انھوں نے روہنگیا مزاحمت کاروں پر تشدد آمیز کارروائیوں کا الزام عاید کیا ہے اور کہا ہے کہ تیس ہزار بدھ مت دیہاتی بھی بے گھر ہوئے ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے میانمار میں شہریوں کے جان ومال کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں