.

برما حکومت مسلمانوں کے خلاف طاقت کا استعمال بند کردے: یو این

روہنگیا مسلمانوں کو تباہ کن انسانی صورت حال کا سامنا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل آنتونیو گوٹریس کا کہنا ہے کہ میانمار میں روہنگیا مسلمان 'تباہ کن' انسانی صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔

آنتونیو گوٹریس نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا دیہات پر مبینہ حملے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں اور انھوں نے فوجی طاقت کا استعمال روکنے کا مطالبہ کیا۔

میانمار کی فوج کا کہنا ہے کہ وہ عسکریت پسندوں سے لڑ رہی ہے اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتی ہے۔

گذشتہ ماہ سے شروع ہونے والے پرتشدد واقعات کے بعد تقریباً تین لاکھ 97 ہزار روہنگیا مسلمانوں نے بنگلہ دیش نقل مکانی کی ہے۔ کچھ دیہات مکمل طور پر نذر آتش کر دیے گئے ہیں۔

اس بحران پر بات چیت کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوگا۔ تاہم میانمار کے حکام کا کہنا ہے کہ آنگ سان سوچی آئندہ ہفتے منعقد ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گی۔

البتہ وہ 19 ستمبر کو ٹی وی پر قوم سے خطاب کریں گی۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس بھی اسی روز منعقد ہوگا۔

میانمار کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ 'قومی مفاہمت اور امن کے بارے میں بات کریں گی۔'

بڑی تعداد میں روہنگیا مسلمان آج بھی خستہ کیمپوں میں رہ رہے ہیں۔ انھیں وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک اور زیادتی کا سامنا کرنا پڑتا ہے. لاکھوں کی تعداد میں بغیر دستاویزات والے روہنگیا بنگلہ دیش میں رہ رہے ہیں جو دہائیوں پہلے میانمار چھوڑ کر وہاں آئے تھے۔