.

قطر نے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی: مشیر سعودی شاہی دیوان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے شاہی دیوان کے مشیر سعود القحطانی نے کہا ہے کہ قطر کی جانب سے آل مُرّہ قبیلے کے سردار اور ان کے رشتے داروں کی شہریت منسوخ کرنے کا اقدام اس خلیجی ریاست سے لوگوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا آغاز ہے۔

انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے:’’ قطری قیادت نے اپنے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے‘‘۔انھوں نے مزید لکھا ہے:’’ مجھے بحران کے آغاز کے بعد سے قطری حکام کے ہاتھوں کٹھ پتلی بن جانے والے ہر قطری شہری سے گہری ہمدردی ہے‘‘۔

وہ چار عرب ممالک سعودی عرب ، مصر ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کی جانب سے پانچ جون سے جاری قطر کے بائیکاٹ کا حوالہ دے رہے تھے۔ان ممالک نے قطر سے ہرقسم کے تعلقات منقطع کررکھے ہیں۔

قحطانی نے کہا کہ ’’اس بحران سے قطر کو اپنے شہریوں کے دل جیتنے کا ایک اچھا موقع ملا تھا لیکن اس نے اپنے ہی شہریوں کو بے گھر کرنے اور انھیں ڈرانے دھمکانے کی پالیسی اختیار کر لی ہے‘‘۔انھوں نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ سعودی عرب ہمیشہ تمام عربوں کا فطری وطن رہا ہے اور رہے گا۔

قبل ازیں قطر کے آل مُرّہ قبیلے کے سردار شیخ طالب بن لاہوم بن شریم نے اپنے علاوہ خاندان کے چوّن افراد کی شہریت منسوخ ہونے کی تصدیق کی ہے۔انھوں نے دوحہ حکومت کو ایرا ن کے ساتھ راہ ورسم بڑھانے پر خبردار کیا ہے۔

شیخ طالب نے العربیہ نیوز کے ساتھ بدھ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ انھیں قطری حکام کے اس اقدام پر کوئی حیرت نہیں ہوئی ہے۔ انھوں نے حال ہی میں آل مرہ قبیلے کے شیوخ کے ساتھ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سامےن سے ملاقات کی تھی اور سعودی عرب کو موجودہ قطری قیادت کی پالیسیوں کے خلاف اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

انھوں نے کہا کہ’’ قطری حکام دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں مہیا کرنے اور ان کی پشتیبانی کا ایک ذریعہ بن چکے ہیں اور یہ موضوع ان کے خاندان کی قومیت ختم کیے جانے سے کہیں زیادہ لائق توجہ اور قابلِ غور ہے۔یہ سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں پر ایک بڑا حملہ ہے‘‘۔قطر نے آل مرہ قبیلے کے جن افراد کی شہریت منسوخ کی ہے،ان میں اٹھارہ خواتین اور ان کے بچے بھی شامل ہیں۔