.

’کنگ آف انٹرویو‘ لیری کنگ کینسر کے مرض میں مبتلا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر 60 سال تک چھائے رہنے والے اور مشاہیر عالمی شخصیات کے انٹرویوز میں عالمی ریکارڈ رکھنے والے بین الاقوامی شہرت یافتہ صحافی ’لیری کنگ‘ کینسر جیسے موذی اور جان لیوا مرض کا شکار ہوگئے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لیری کنگ نے ریڈیو اور ٹی وی کی دنیا میں 60 سال کام کیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 53 ہزار شخصیات کے انٹرویو کیے اور ٹی وی ریڈیو پر سات ہزار سے زاید پروگرامات پیش کیے۔

ٹی وی اور ریڈیو کی دنیا کے دیرینہ میزبان لیری کنگ میں کینسر کی تشخیص کی جا چکی ہے۔ وہ پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا ہیں، اگرچہ انہوں نے سیگریٹ نوشی تیس سال سے چھوڑ رکھی ہے۔

امریکی جریدہ ’People‘ کے انکشاف کےمطابق 83 سالہ لیری کنگ گذشتہ جولائی سے کینسر کا شکار ہیں۔ وہ ہرسال اپنا طبی معائنہ باقاعدگی سے کراتے رہے ہیں تاہم جولائی میں انہیں ڈاکٹروں نے لیزر کے ذریعے پھیپھڑوں میں کینسر کی موجودگی کا بتایا۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ لیری کنگ کا کینسر ابھی محدود اور ابتدائی نوعیت کا ہے مگر سنہ 1987ء سے وہ عارضہ قلب کے مریض بھی چلے آ رہے ہیں۔ ان کی صحت کینسر جیسے موذی مرض کی متحمل نہیں رہی۔

یہاں یہ امر واضح رہے کہ لیری کنگ کی پیدائش نیویارک میں Lawrence Harvey Zeiger کے مقام پر ہوئی۔ ان کا یہودی خاندان بیلا روس سے نقل مکانی کرکے امریکا میں آباد ہوا

یہ بات حیران کن ہے کہ لیری کنگ نے فلوریڈا ریاست کے شہر ’پالم بیچ‘ سے نشریات پیش کرنے والے WAHR ریڈیو جو بعد میں WMBM کےنام سے مشہور ہوا کے دفتر میں سویپر سے کام شروع کیا۔ سنہ 1957ء میں ریڈیو کی لہروں نے ان کی پہلی آواز نشر کی۔ اس کے بعد ان کا ابلاغی سفری 2010ء میں CNN سے ریٹائرمنٹ کے بعد ختم ہوا۔ وہ سی این این پر’لیرکنگ لایف‘ شو ہر جمعرات کو پیش کرتے تھے۔ اس طرح انہوں نے ٹی وی کی دنیا میں 35 سال مختلف پروگراموں کی میزبانی کی۔

سنہ 2010ء میں لیری کنک کی دولت ایک کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھی۔ انہوں نے سات خواتین سے آٹھ شادیاں کیں، ان کی آخری شادی سنہ 1997ء میں ٹی وی میزبان ’شوان ساتھ وک‘ کے ساتھ ہوئی، دونوں میں عمر میں 25 سال کا فرق تھا۔ کئی شادیوں کے باوجود ان کی اولاد کم رہی۔ ان کے پانچ بیٹے ہیں اور وہ شادی شدہ اور صاحب اودلا ہیں۔

لیری کنگ کا کسی مذہب کی طرف جھکاؤ ہے یا نہیں۔ ان کا آبائی مذہب یہودیت ہے مگر وہ ملحد شمار کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے امریکی صدر جون ایف کینڈ، رچرڈ نکسن، جارج ڈبلیو بش، سوویت لیڈر میخائل گوربا چوف، برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیر، روسی صدر ولادی میر پوتن، سابق ایرانی صدر احمدی نژاد، نیلسن مینڈیلا اور یاسر عرفات جیسے مشاہیر کے انٹرویو کیے۔ جب انہوں نے ٹی وی پرکام شروع کیا تو ان کی ہفتہ وار اجرت صرف 55 ڈالر تھی۔