.

عالمی پابندیوں کا جواب ۔۔۔۔ شمالی کوریا کا ایک اور میزائل تجربہ

میزائل جاپان کی فضاء سے گذر کر سمندر میں جا گرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جاپان اور جنوبی کوریا نے دعویٰ کیا ہے کہ شمالی کوریا نے اپنے دارالحکومت پیانگ یانگ سے ایک میزائل مشرق کی جانب داغا ہے۔ شمالی کوریا کی جانب سے یہ میزائل تجربہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے کہ سلامتی کونسل کی جانب سے پیانگ یانگ کے میزائل تجربات پر تازہ پابندیوں کے نفاذ کو ایک ہفتہ نہیں گذرا ہے۔

جنوبی کوریا کی فوج کا کہنا ہے کہ یہ میزائل 770 کلومیٹر کی بلندی پر گیا اور اس نے تقریباً 3700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا۔

جنوبی کوریا اور امریکا اکا کہنا ہے کہ وہ اس میزائل کے بارے میں تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

گذشتہ ماہ شمالی کوریا نے جاپان کے اوپر سے ایک میزائل فائر کیا تھا جسے ٹوکیو کی جانب سے اپنے ملک کے لیے 'ایک بے مثل خطرہ' قرار دیا گیا تھا۔

شمالی کوریا کی جانب سے یہ حالیہ میزائل اقوام متحدہ کی جانب سے نئی پابندیوں کے اطلاق کے بعد فائر کیا گیا ہے۔

جاپانی حکومت کا کہنا ہے کہ پیانگ یانگ کی جانب سے جمعہ کی صبح داغا جانے والا میزائل جاپان کی فضائی حدود سے گذرا ہے۔ یہ ایک بیلسٹک میزائل تھا۔

جاپانی کابینہ کے سیکرٹری جنرل یوشیھیڈی سوچا نے کہا کہ یہ میزائل مقامی وقت کے مطابق 6:57 پر ہوکائیڈو جزیرے کے اوپر سے گذرا اور مشرقی جزیرے کیپ ارمو میں قریبا دو ہزار کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد 7 بج کر پانچ منٹ پر اپنے ہدف پر جا گرا۔

جاپان نے شمالی کوریا کے میزائل تجربے کو ٹوکیو کے خلاف کھلی اشتعال انگیزی قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔