.

قطری حکومت کے انتقامی اقدامات پر غور کے لیے آل مُرّہ کے سرداروں کا اجتماع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کے آل مُرّہ قبیلے کے سرداروں اور شیوخ کا ہفتے کے روز سعودی عرب کے علاقے الاحساء میں ایک اجلاس ہوا ہے۔انھوں نے قطری حکومت کے اپنے قبیلے کے خلاف حالیہ معاندانہ اقدامات کے مضمرات پر غور کیا ہے۔

قطری حکام نے حال ہی میں آل مرہ کے ایک سردار شیخ طالب بن لاہوم بن شریم اور ان کے چوّن رشتے داروں کی شہریت منسوخ کردی ہے۔ ان میں اٹھارہ خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انھوں نے قطری حکام کے حکم کے مطابق سعودی عرب پر تنقید سے انکار کردیا تھا۔

ذرائع نے العربیہ کو بتایا ہے کہ اس اجلاس کے ایجنڈے میں آل مرہ سے تعلق رکھنے والے حاجیوں کی حال ہی میں گرفتاری کا معاملہ بھی شامل ہے۔ اس خاندان کی دو نمایاں شخصیات کو گذشتہ ہفتے سعودی عرب سے حج سے قطر واپسی پر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

آل مرہ قطر کا سب سے بڑا قبیلہ ہیں اور وہ اس خلیجی ریاست کی آبادی کا قریباً 60 فی صد ہیں۔اس قبیلے نے اپنے ملک کی تعمیر وترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔تاہم انھیں قطر کے حکمراں خاندان کی عاقبت نا اندیشانہ پالیسیوں کی مخالفت کی پاداش میں بھاری خمیازہ بھگتنا پڑتا رہا ہے۔

سنہ 2004ء میں قطری حکومت نے اس خاندان سے تعلق رکھنے والے چھے ہزار افراد کی شہریت منسوخ کردی تھی۔انھیں ملازمتوں سے معطل کردیا گیا تھا۔ انھیں ان کے اپنے ملکیتی مکانوں سے جبری بے دخل کردیاگیا تھا اور ان میں سے بعض کو گرفتار کرنے کی بھی دھمکی دی گئی تھی۔

قطری حکام نے ان میں سے بعض کے مکانوں میں چھاپا مار کارروائیاں بھی کی تھیں۔قطری حکومت کے ان اقدامات کے نتیجے میں اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے بہت سے افراد بے ریاست ہوگئے تھے اور وہ تب سے سعودی عرب کے شہروں الدمام اور حوفوف کے درمیان واقع صحرائی علاقے میں رہ رہے ہیں۔

قطر نے ان شہریوں کی قومیت منسوخ کرکے اپنے ہی آئین کی دفعہ 18 کی خلاف ورزی کی تھی۔اس میں کہا گیا ہے کہ قطری معاشرہ انصاف ، آزادی ، مساوات اور اعلیٰ اخلاقی قدروں کے اصولوں پر استوار ہے۔

قطری حکومت کے آل مرہ قبیلے کے خلاف اقدامات آئین کی دفعہ 19 کے بھی منافی ہیں۔اس میں یہ صراحت کی گئی ہے کہ ریاست مذکورہ اصولوں کا تحفظ کرے گی ۔ وہ تمام شہریوں کو ترقی کے مساوی مواقع مہیا کرے گی اور انھیں سلامتی اور استحکام کی ضمانت دے گی۔دفعہ 20 میں تمام شہریوں میں حب الوطنی اور بھائی چارے کے جذبے کو فروغ دینے کا ذکر کیا گیا ہے۔