.

قطر اور ایران افغانستان میں طالبان کے معاون خصوصی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

افغانستان گذشتہ کئی عشروں سے پڑوسی ممالک کی طرف سے اپنے اندرونی امور میں مداخلت کی شکایت کرتا چلا آ رہا ہے۔ بعض ہمسایہ ممالک افغانستان کی جہادی اور سیاسی جماعتوں کو سپورٹ کرنے کے ساتھ افغانستان میں خانہ جنگی کو ہوا دینے کی کوششوں میں سرگرم رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ کے مطابق افغانستان میں مداخلت کرنے والے ممالک میں ایران اور خلیجی ریاست قطر سر فہرست قرار دیے جاتے ہیں۔ 18 جون 2013ء کو دوحہ نے افغان طالبان کو اپنی سرزمین پر سیاسی دفتر کھولنے کی اجازت دی۔ طالبان نے ’امارت اسلامیہ افغانستان‘ کے عنوان سے دوحہ میں اپنا دفتر قائم کیا اور سیاسی سرگرمیوں کا آغاز کردیا۔

یہ امارت اسلامی دراصل سنہ 1996ء سے2001ء تک افغانستان میں قائم طالبان کی حکومت کی سرکاری اصطلاح تھی۔ امریکا میں نائن الیون کے سانحے نے طالبان کی حکومت ختم کردی کیونکہ امریکا نے القاعدہ کے اتحادی طالبان کو نائن الیون کی دہشت گردی کی سزا دینے کے لیے اپنی فوجیں افغانستان میں اتار کر طالبان حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا۔

قطرمیں طالبان کے دفتر کے قیام میں اوباما کا کردار

ایک بار پھر طالبان کے قطر میں سیاسی دفتر کے قیام کے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں۔ یہ دفتر سابق امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ کے دور میں بنایا گیا۔ صدر اوباما نے نہ صرف اس کی اجازت دی بلکہ طالبان کو قومی دھارے میں لانے کے لیے طالبان کو بیرون ملک اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی مکمل حمایت کی۔ طالبان کو دوحہ میں دفتر قائم کرنے کی اجازت دے کر اوباما نے افغان حکومت کی مخالفت مول لی، کیونکہ افغان حکومت نے اس پر سخت احتجاج کیا اور اس معاہدے کے بعد امریکا اور افغانستان کے درمیان بات چیت بھی معطل ہوگئی۔

امریکی انتظامیہ اور اوباما کے کردار پر افغانستان کے سرکاری حلقوں کو غیرمعمولی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکا جس نے تحریک طالبان کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کررکھا تھا خود ہی اسے سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے رہا تھا۔ افغان صدر حامد کرزئی کےترجمان ایمل فیضی نےامریکی ایماء پر طالبان کے دوحہ کے دفتر کےقیام پر اپنے رد عمل میں کہا کہ صدر کرزئی اس اقدام پر سخت برہم ہیں۔ صدر کرزئی نے سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران بھی اپنی برہمی کا کھل کر اظہار کیا اور کہا طالبان کو افغان حکومت کی اجازت کے بغیر قطر میں سیاسی دفتر قائم کرنے کی اجازت دینے کے بعد واشنگٹن اور کابل کے درمیان رابطے کم ہوگئے ہیں۔ بالخصوص امن بات چیت کا عمل معطل ہے۔

طالبان کے علاقوں میں قطر اور ایران کی موجودگی

افغانستان میں مقامی حکومت کی عمل داری نہ ہونے کے باعث طالبان جنگجو بار بار کئی صوبوں اور اضلاع پرقبضہ کرتے رہتے ہیں۔ افغانستان کے جنوب مغربی علاقے بالخصوص ایران کی سرحد سے متصل صوبہ ’فراہ‘ پر طالبان کا کنٹرول سمجھا جاتاہے۔ مگر ایران کی سرحد سے متصل علاقوں میں طالبان کے کنٹرول کے ساتھ ساتھ یہ سوالات بھی اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا ماضی میں ایک دوسرے کے دشمن رہنے والے طالبان اور ایران اب ایک دوسرے کے دوست بن گئے ہیں؟۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ صوبہ فراہ میں طالبان کو مستحکم کرنے میں ایران کا کلیدی کردار بتایا جاتا ہے۔

صوبہ فراہ میں ایران اور قطر کی معاونت سے تشکیل دیے گئے گروپ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ان علاقوں کو گرم ترین محاذ جنگ میں شمار کیا جاتا ہے جہاں روز مرہ کی بنیاد پر ایران اور قطر کے حمایت یافتہ طالبان جنگجوؤں اور امریکا کی قیادت میں عالمی اتحادی فوج کے درمیان جھڑپیں ہوتی ہیں۔

افغان ذرائع بتاتے ہیں کہ قطر نے طالبان کی مدد کے لیے ’الغرافہ‘ کے نام سے ایک تنظیم بنا رکھی ہے۔ اس تنظیم کا اعلانیہ ہدف تو فراہ صوبے میں تعمیر وترقی میں حصہ لینا ہے مگر عملا یہ تنظیم طالبان جنگجوؤں کو کروڑوں ڈالر کی رقوم پہنچا رہی ہے۔

صوبہ فراہ کے ایک عہدیدار محمد رسول بارکزئی کا کہنا ہے کہ قطر صوبے میں اپنا ایک مخصوص سیاسی ایجنڈا رکھتا ہے۔ قطر اور ایران دونوں ملک کر ترقیاتی اور تعمیراتی منصوبوں میں معاونت کی آڑ میں طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ قطری شیوخ اور شہزادے شکار کی آڑ میں یہاں آتے ہیں۔ کئی کئی ماہ قیام کرتے۔ لوگوں میں خوراک تقسیم کرتے اور طالبان کی معاونت کرتے ہیں۔

کابل میں سعودی سفیر کا الزام

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں تعینات سعودی عرب کے قائم مقام سفیر مشاری الحربی نے سات اگست کو الزام عاید کیا کہ قطر طالبان جنگجوؤں کی مدد کررہا ہے اور یہ مدد افغانستان میں جنگ کو طول دے رہی ہے۔

سعودی سفارت کار کا کہنا ہے کہ قطر نے ماضی میں بھی طالبان کی بھرپور مالی مدد کی اور وہ اب بھی طالبان اور دوسرے شدت پسند گروپوں کی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔

مشاری الحربی نے کہا کہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک نے دہشت گردی کے خلاف یکساں موقف اپنایا ہے مگر قطر کی پالیسی خلیجی ممالک کی اجتماعی پالیسی کے برعکس ہے۔ دہشت گردی اور شدت پسند گروپوں کے معاملے میں قطر کا کردار خلیج تعاون کونسل کی پالیسی سے ہٹ کر ہے۔

سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو قطر کی طرف سے امداد کی فراہمی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔