.

شمالی کوریا امریکا کے ساتھ فوجی توازن قائم کرنا چاہتا ہے: صدر کم

ملک کی جوہری صلاحیت قریب قریب مکمل ہوگئی ، ایٹمی پروگرام کو مکمل کیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شمالی کوریا کے صدر کم جونگ ان نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکا کے ساتھ فوجی توازن قائم کرنا چاہتا ہے،اس مقصد کے لیے جوہری پروگرام کو مکمل کیا جائے گا۔ان کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت پہلے ہی مکمل ہونے کے قریب ہے۔

شمالی کوریا نے جمعہ کو درمیانی فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل ہاسونگ 12 کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ میزائل جاپان کے اوپر سے فائر کیا گیا تھا ۔اس نے یہ تجربہ اقوام متحدہ کی جانب سے نئی پابندیاں عاید کیے جانے کے بعد کیا تھا۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبررساں ایجنسی کے سی این اے کے مطابق صدر کم نے کہا ہے کہ ’’ ہمارا حتمی مقصد امریکا کے ساتھ طاقت کا حقیقی توازن قائم کرنا ہے تاکہ امریکی حکمراں عوامی جمہوریہ کوریا کے خلاف فوجی آپشن استعمال کرنے کا سوچ بھی نہ سکیں‘‘۔

انھوں نے مزید کہا کہ ’’ان کا ملک اپنی جوہری خواہشات کو عملی جامہ پہنانے کے قریب ہے اور اس کو اس مقصد کے حصول کے لیے اپنے تمام وسائل کو بروئے کار لانا چاہیے‘‘۔کم جونگ نے کہا کہ گذشتہ روز جو میزائل چھوڑا گیا ہے، وہ ایک مشق ہے ،تجربہ نہیں ہے۔اس سے شمالی کوریا کی جوہری قوت کی لڑاکا طاقت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ’’ ہمیں واضح طور پر بڑی طاقت کے بزرجمہروں کو یہ دکھا دینا چاہیے کہ ہماری ریاست نے ان کی لامحدود پابندیوں اور ناکا بندی کے باوجود کیسے اپنی جوہری طاقت کو پایہ تکمیل کو پہنچایا ہے‘‘۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے شمالی کوریا کے اس نئے میزائل تجربے کی مذمت کی ہے اور اس کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیا ہے۔امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر ایچ آر میکماسٹر نے اس کے ردعمل میں کہا کہ ’’ کم جونگ کے اس تازہ میزائل تجربے سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے فوری اور خطرناک سکیورٹی مسئلہ ہے‘‘۔

امریکا کی بحرالکاہل میں فوجی کمان نے جمعہ کو شمال کوریا کے اس راکٹ تجربے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ یہ درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل تھا۔اس سے شمالی امریکا یا بحرالکاہل میں واقع علاقے گوام کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔شمالی کوریا گوام پر ماضی میں میزائل حملے کی دھمکی دے چکا ہے۔

جنوبی کوریا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ شمالی کوریا کے اس میزائل نے قریباً3700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کیا تھا اور یہ سطح سمندر سے 770 کلومیٹر اونچائی تک گیا تھا۔

دریں اثناء روسی صدر ولادی میر پوتین اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانو ایل ماکروں نے مشترکہ طور پر شمالی کوریا کے ساتھ براہ راست بات چیت کی اپیل کی ہے۔انھوں نے ٹیلی فون پر گفتگو کے بعد ایک بیان میں کہا ہے کہ صرف بات چیت کے ذریعے ہی شمالی کوریا کے جوہری پروگرام پر جاری کشیدگی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ دونوں صدور کا اشارہ امریکا اور جاپان کی طرف ہے جو شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت پابندیاں عاید کرنے پر اصرار کررہے ہیں۔